اسلام آباد(رضوان عباسی )وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے کہا ہے کہ بھارتی عدالت کی جانب سے کشمیری حریت رہنما آسیہ اندرابی کو عمر قید اور ان کی ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 30،30 سال قید کی سزا سنانا انصاف کا قتل اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس فیصلے کی شدید مذمت کرتا ہے اور اسے مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
اسلام آباد میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت کی عدالتیں آزاد نہیں رہیں اور انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آسیہ اندرابی کا اصل “جرم” صرف کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی بات کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سزاؤں سے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے اور یہ اقدامات کشمیریوں کی آواز دبانے کی ناکام کوشش ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق اب تک 96 ہزار سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں جبکہ 32 ہزار افراد دورانِ حراست جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 22 ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہو چکی ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی جیلوں میں مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ اور یاسین ملک سمیت سینکڑوں کشمیری رہنما قید ہیں۔
امیر مقام نے کہا کہ اگر بھارت خطے میں امن چاہتا ہے تو اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنا ہوگا اور کشمیریوں کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دینا ہوگا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے اور غیر کشمیریوں کو آباد کر کے مستقبل میں استصوابِ رائے پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کا نوٹس لینا چاہیے۔
اس موقع پر آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے بھی بھارتی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آسیہ اندرابی پر بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے اور مالی معاونت کے الزامات عائد کیے گئے تھے تاہم دونوں الزامات کو ابتدائی سماعت میں ہی مسترد کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو صرف تقریر کرنے پر طویل سزائیں دی گئیں جبکہ کشمیری قیادت کا مؤقف واضح ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے۔
حریت رہنما شمیم شال نے کہا کہ آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کا کوئی قصور نہیں اور انہیں انتہائی خراب حالات میں جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر اس مسئلے کو اٹھائے اور ان جیلوں کے حالات کے بارے میں آواز بلند کرے جہاں کشمیری خواتین رہنماؤں کو قید رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری خواتین نے آزادی کی جدوجہد میں فرنٹ لائن پر کردار ادا کیا ہے، تاہم بھارت کشمیر سے متعلق خبروں کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔
پریس کانفرنس میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما محمود ساغر سمیت دیگر کشمیری قائدین بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام مسلسل مظالم کے باوجود اپنے حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور عالمی برادری کو اس مسئلے کے حل کے لیے عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔
ٹرمپ کا حیران کن دعویٰ، ایران نے سپریم لیڈر بنانے کی پیشکش کیمزید پڑھیں:
