تل ابیب (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل میں سیاسی اور قانونی محاذ پر ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں صدر اسحاق ہرزوگ نے بدعنوانی کے مقدمات میں الجھے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے دائر کی گئی معافی کی درخواست کو فوری طور پر منظور کرنے کے بجائے مزید غور کے لیے واپس وزارت انصاف کو بھیج دیا ہے۔
ایوان صدر کی طرف سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق صدر نے حتمی رائے قائم کرنے سے قبل اضافی قانونی مواد اور ماضی کی نظیروں کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ صدر کے قانونی مشیر کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ معاملہ زیر سماعت ہے، اس لیے ایسے حالات میں معافی کی طاقت کے استعمال کے حوالے سے سابقہ مثالوں کا بغور مطالعہ ناگزیر ہے، خاص طور پر جب اس کیس میں سفارتی اور سیکیورٹی سے متعلق پہلو بھی شامل ہوں۔
حکام کا کہنا ہے کہ درخواست کو واپس بھیجنے کا مقصد کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل مکمل اور غیر جانبدارانہ قانونی جائزہ کو یقینی بنانا ہے۔ اس پیش رفت کو حتمی فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ ایک پیشہ ورانہ عمل کے حصے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جس میں تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اس معاملے نے بین الاقوامی توجہ بھی حاصل کر لی ہے جہاں امریکہ کے معروف قدامت پسند مبصر ٹکر کارلسن نے اپنے چینل پر نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کے الزامات پر ایک دستاویزی فلم جاری کی ہے۔ یہ فلم اسرائیلی پولیس کی تفتیش کے دوران ریکارڈ کی گئی ایک ہزار سے زائد آڈیو ریکارڈنگز پر مبنی ہے جنہیں کیس میں اہم شواہد کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ اس دستاویزی مواد کا بین الاقوامی سطح پر چرچا ہو رہا ہے لیکن اسرائیل میں اس فلم کی نمائش پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے اس کی اشاعت اور رسائی محدود ہو گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی طور پر بھی حساس ہوتی جا رہی ہے جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں :سام سنگ گلیکسی ایس چھبیس الٹرا بمقابلہ ویوو ایکس تین سو پرو، کون سا بہتر فلیگ شپ موبائل فون ہے؟





