Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

پاکستان کا تیار کردہ جنگ بندی کا منصوبہ امریکا اور ایران کو موصول،فیلڈ مارشل کا اہم شخصیات سے رابطہ

اسلام آباد (اوصاف نیوز)امریکہ اور ایران کو جنگی کشیدگی ختم کرنے کے ایک منصوبے کا ابتدائی خاکہ موصول ہو گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک دن بعد سامنے آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے معاہدہ نہ کیا تو اس پر ’’آگ  برسا دی جائے گی‘‘ تاہم ایران نے کہا ہے کہ عارضی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اس منصوبے کا حصہ نہیں ہوگا۔

رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ امن منصوبہ دو مرحلوں پر مشتمل ہے،  پہلے فوری جنگ بندی اور اس کے بعد ایک جامع معاہدہ۔ ایک ذریعے کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر کی رات بھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں رہے۔

خبر رساں ادارے Axios نے اتوار کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ، ایران اور علاقائی ثالث ایک ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی پر بات چیت کر رہے ہیں، جو دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کا حصہ ہو سکتی ہے اور بالآخر جنگ کے مستقل خاتمے تک پہنچ سکتی ہے۔ اس رپورٹ میں امریکی، اسرائیلی اور علاقائی ذرائع کا حوالہ دیا گیا۔

اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک سخت پیغام میں ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا اور منگل تک آبنائے کو نہ کھولا تو ایران کے توانائی اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملے کیے جائیں گے۔

پیر کے روز خطے کے مختلف حصوں میں تازہ فضائی حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کو پانچ ہفتوں سے زیادہ ہو چکے ہیں، جن میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے معیشتیں متاثر ہوئیں۔

ایران نے ان حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا، جو دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، اور اس کے ساتھ اسرائیل، امریکی فوجی اڈوں اور خلیج کے اردگرد توانائی کے ڈھانچوں کو بھی نشانہ بنایا۔
مزید پڑھیں:دنیا کو ایک ہی جھٹکے میں مفلوج کر دیں گے!ایران

یہ بھی پڑھیں