Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

ایران نے تیل پر فی بیرل ٹیکس نافذ کر دیا، ادائیگی کا نیا طریقہ سامنے آگیا

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل پر ایک ڈالر فی بیرل ٹیکس لگانے کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی اخبار کے مطابق ایرانی پیٹرولیم ایکسپورٹرز یونین کے ترجمان حامد حسینی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز سے کرپٹو کرنسی میں ٹول ٹیکس وصول کرے گا۔

حامد حسینی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کا معائنہ کرنا چاہتا ہے اور اس سے فیس وصول کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے ضروری ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے آنے اور جانے والی چیزوں کی نگرانی کرے؟ تاکہ ان دو ہفتوں میں اسلحہ کی منتقلی نہ ہو۔ یہاں سے ہر چیز گزر سکتی ہے لیکن ہر جہاز کے طریقہ کار میں وقت لگے گا اور ایران کو کوئی جلدی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر جہاز کو اپنے کارگو کی تفصیلات ای میل کے ذریعے ایرانی حکام کو فراہم کرنا ہوں گی جس کے بعد اسے ادا کی جانے والی فیس کے بارے میں بتایا جائے گا۔ آئل ٹینکرز کی فیس ایک ڈالر فی بیرل ہوگی جب کہ خالی جہازوں کو مفت میں گزرنے کی اجازت ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک بار جب ای میل موصول ہو جاتی ہے اور ایران معائنہ مکمل کر لیتا ہے تو جہازوں کو چند سیکنڈوں میں بٹ کوائن میں ادائیگی کرنی ہوگی۔

خبر ایجنسی کے مطابق جنگ بندی کے تحت ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ٹیکس وصول کریں گے۔ ایران ان فنڈز کو تعمیر نو کے لیے استعمال کرے گا، جب کہ عمان کے منصوبے واضح نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے فیصلے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کرتی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بدھ کو خلیج میں بحری جہازوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر انہوں نے ایرانی حکام کی اجازت کے بغیر گزرنے کی کوشش کی تو ان پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی جہاز بغیر اجازت گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے تباہ کر دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں‌:اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری رہے تو ایران جنگ بندی سے دستبردار ہوسکتا ہے؛ ایرانی میڈیا

یہ بھی پڑھیں