اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی مختصر وفد کے ہمراہ آج رات اسلام آباد آمد متوقع ہے، حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ دورے کے دوران اہم سفارتی ملاقاتیں اور خطے کی صورتحال پر مشاورت متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کی آمد کے پیش نظر دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کا یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس دوران پاکستان، ایران اور امریکا سے متعلق سفارتی پیش رفت پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد پر بھی غور جاری ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکا کی لاجسٹک اور سکیورٹی ٹیم پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکی ہے اور ممکنہ مذاکراتی سرگرمیوں کے لیے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اگر مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی روابط کو آگے بڑھانے کی اہم پیش رفت قرار دی جائے گی۔
سیاسی و سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان ایک بار پھر خطے میں اہم ثالثی کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ اسلام آباد ماضی میں بھی مختلف عالمی تنازعات میں مذاکراتی پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
تاہم اس حوالے سے پاکستانی یا امریکی حکام کی جانب سے تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکراتی عمل آگے بڑھتا ہے تو اس کے خطے کی سلامتی، توانائی اور معاشی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
