Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

تیل کے کنوؤں کے بھر جانے اور “فیلڈز کے مردہ ہونے” سے پہلے تہران کشمکش میں

(اوصاف نیوز)رواں ماہ 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کے امریکی بحری محاصرے کے آغاز کے بعد سے، ایران ایک انتہائی حساس معاشی اور تکنیکی امتحان سے دوچار ہے۔ اس بحران کا تعلق محض تیل کی فروخت سے نہیں بلکہ اس کے ذخیرہ اندوزی کے سنگین مسئلے سے بھی ہے۔

تیل کو ذخیرہ کیسے کریں؟

ماہرین کے اندازوں کے مطابق یہ محاصرہ روزانہ تقریباً 20 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل کی برآمدات کو معطل کر سکتا ہے، جس کا بڑا حصہ چین جاتا تھا۔ موجودہ صورتحال میں ایران کی کل پیداوار تقریباً 35 لاکھ بیرل روزانہ ہے، جبکہ مقامی ریفائنریز کی کھپت 20 لاکھ بیرل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ روزانہ تقریباً 15 لاکھ بیرل تیل ایسا ہے جسے یا تو برآمد کرنا ضروری ہے یا پھر ذخیرہ کرنا۔

اگر روزانہ کی فاضل پیداوار 18 لاکھ بیرل تک پہنچ جائے تو ایران کے پاس موجود 3 کروڑ بیرل کی گنجائش محض 16 سے 17 دنوں میں بھر جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ تجزیہ کار اپریل کے اختتام کو ایران کے لیے پہلا بڑا پریشر پوائنٹ قرار دے رہے ہیں، جہاں سے یہ بحران محض مالی دباؤ سے نکل کر خود تیل کے کنوؤں کے لیے تکنیکی خطرہ بن جائے گا۔

تیرتے گودام

اس صورت حال میں ایران اپنے بحری جہازوں کو “تیرتے ہوئے گوداموں” کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق بہت سے ٹینکر ٹریکنگ سسٹم بند کر کے یا خفیہ راستوں سے نقل و حرکت کر رہے ہیں۔ تاہم یہ ایک مہنگا اور خطرناک حل ہے جو طویل مدتی حصار کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ٹینک بھر جانے پر پانی کو اضافی برتنوں میں ڈالا جائے، جس سے خطرہ ٹلتا نہیں بلکہ صرف کچھ دیر کے لیے مؤخر ہوتا ہے۔

تیل کے ذخائر مکمل بھر جانے کی صورت میں ایران کے پاس تین ہی راستے بچیں گے : فاضل پیداوار کم کرنے کے لیے پیداواری عمل کو بتدریج سست کرنا، ذخیرہ اندوزی کی گنجائش ختم ہونے پر تیل کے کنوؤں کو مکمل بند کرنا اور بھاری انشورنس اور شپنگ اخراجات برداشت کر کے خفیہ راستوں سے سستے داموں تیل بیچنا۔

تیل کے کنوؤں کو تیزی سے یا طویل عرصے کے لیے بند کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ گولڈمین سیکس کے تجزیے کے مطابق، طویل بندش سے کنوؤں کے اندرونی دباؤ (Reservoir Pressure) کو نقصان پہنچتا ہے، جس سے مستقبل میں بحری راستے کھلنے کے باوجود پیداوار کی بحالی انتہائی مشکل ہو جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ حصار اسی طرح مؤثر رہا تو ایران کے متحرک تیل کے ذخائر “مردہ کنوؤں” میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:امریکی فوج سے تعاون کے شبہے میں جہاز قبضے میں لیا ہے، پاسداران انقلاب

یہ بھی پڑھیں