اسلام آباد(اوصاف نیوز)وزیراعظم کی ہدایت پر 120 ارب روپے کے سولر پینل اوور انوائسنگ اسکینڈل میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی اور تحقیقات کے عمل کو تیز کرنے کیلئے دو الگ الگ اعلیٰ سطحی کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں۔
دستاویزات کے مطابق سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی سربراہی میں سات ارکان پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی ڈسپلنری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں متعلقہ افسران کی غفلت، کوتاہی اور سہولت کاری کا تعین کرے گی۔ کمیٹی ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی نگرانی بھی کرے گی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو ہر دو ہفتے بعد اس معاملے پر پیشرفت رپورٹ پیش کی جائے گی تاکہ تحقیقات اور انتظامی کارروائیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
اسی طرح تحقیقات اور پراسیکیوشن کی نگرانی کیلئے ڈی جی کسٹمز رباب سکندر کی سربراہی میں دوسری کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔ یہ کمیٹی اوور انوائسنگ سے متعلق منی لانڈرنگ کیسز پر خصوصی توجہ دے گی اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی بلا تاخیر یقینی بنائے گی۔
دستاویزات کے مطابق وزارت قانون کو کراچی اور اسلام آباد کیلئے دو خصوصی پراسیکیوٹرز نامزد کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے تاکہ مقدمات کی موثر پیروی کی جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ آف انٹرنل آڈٹ نے 120 ارب روپے کے سولر پینل اوور انوائسنگ اسکینڈل کی نشاندہی کی تھی، جس میں فیس لیس اسیسمنٹ سسٹم میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سولر پینلز کی کلیئرنس کے دوران قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزیاں کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق پی سی اے نے صرف 10 فیصد کنسائنمنٹس کا آڈٹ کیا، جبکہ جعلی کمپنیوں کے ذریعے سولر پینلز کی قیمتیں بڑھا چڑھا کر ظاہر کی گئیں اور اوور انوائسنگ کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ڈائریکٹر انٹرنل آڈٹ کو معطل کر دیا گیا تھا، جبکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے بھی اس معاملے کی تحقیقات کی تھیں۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بڑے مالیاتی اسکینڈل میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
مزید پڑھیں:ناکہ بندی ایران پر بوجھ، پزشکیان نے عوام سے بجلی کی بچت کرنے کی اپیل کردی
