فوجی فرٹیلائزر(Fauji Fertilizer Company) نے سال 2026 کی پہلی سہ ماہی (31 مارچ تک) کے مالی نتائج جاری کرتے ہوئے مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جس سے کمپنی کی مارکیٹ میں مستحکم پوزیشن مزید واضح ہو گئی ہے۔
کمپنی کے اعلامیے کے مطابق خالص منافع 17.5 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ فی شیئر آمدن (EPS) 12.1 روپے رہی، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے 9.3 روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ نہ صرف بہتر فروخت بلکہ مؤثر لاگت کنٹرول اور مستحکم ڈیمانڈ کا نتیجہ ہے۔
پیداواری لحاظ سے ایف ایف سی نے اس سہ ماہی میں 654 ہزار ٹن یوریا اور 166 ہزار ٹن ڈی اے پی تیار کی۔ مقامی طلب کو پورا کرنے کے لیے 42 ہزار ٹن ڈی اے پی درآمد بھی کیا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کھاد کی طلب بدستور بلند ہے۔ فروخت کے اعداد و شمار کے مطابق یوریا کی 601 ہزار ٹن اور ڈی اے پی کی 182 ہزار ٹن آف ٹیک ریکارڈ کی گئی، جو زرعی شعبے میں سرگرمیوں کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔
مارکیٹ شیئر کے لحاظ سے کمپنی نے یوریا میں 58 فیصد اور ڈی اے پی میں 63 فیصد حصہ حاصل کیا، جو اسے پاکستان کی فرٹیلائزر انڈسٹری میں ایک نمایاں مقام دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنا بڑا مارکیٹ شیئر کمپنی کی مضبوط سپلائی چین، وسیع ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک اور کسانوں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
کمپنی نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا کہ اس نے سہ ماہی کے دوران اپنے آپریشنز کو بلا تعطل جاری رکھا اور صحت و حفاظت کے عالمی معیار پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا، جو صنعتی شعبے میں ایک اہم پہلو سمجھا جاتا ہے۔
شیئر ہولڈرز کے لیے خوشخبری دیتے ہوئے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پہلی سہ ماہی کے لیے 8.5 روپے فی شیئر عبوری نقد منافع (انٹرِم ڈیویڈنڈ) کا اعلان بھی کیا، جسے سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر زرعی شعبے میں یہی طلب برقرار رہی اور حکومتی پالیسیوں میں استحکام رہا تو ایف ایف سی آئندہ سہ ماہیوں میں بھی بہتر مالی نتائج دینے کی پوزیشن میں رہے گی۔

