اوٹاوا (انٹرنیشنل ڈیسک) کینیڈا نے اپنی تازہ ترین امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد نظام میں شفافیت، سیکیورٹی اور موثر نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ اسلام آباد نے کینیڈا کی امیگریشن پالیسی (بل C-12) میں نئی ترامیم کے تناظر میں عوام کو خبردار کرنے کے لیے ایک جامع آگاہی مہم شروع کی ہے۔
کینیڈین حکام کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد امیگریشن سسٹم میں شفافیت، سیکیورٹی اور موثر نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا گزشتہ چند سالوں میں آبادی میں تیزی سے اضافے کے بعد امیگریشن پر سخت کنٹرول نافذ کر رہا ہے اور امریکہ میں امیگریشن قوانین کی سختی کے باعث انتہائی ہنر مند افراد کے لیے متبادل مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔
سرکاری اعلان کے مطابق نئی پالیسی میں پناہ گزینوں اور پناہ کی درخواستوں کے طریقہ کار کو نمایاں طور پر سخت کر دیا گیا ہے جبکہ بعض ممالک کے لوگوں کے لیے درخواست کے قوانین کو مزید محدود کر دیا گیا ہے۔ اگر کوئی درخواست دہندہ کینیڈا میں موجود ہونے کے باوجود وقت پر درخواست جمع کرانے میں ناکام رہتا ہے تو اس کی درخواست کو مسترد یا ‘غیر حاضر’ قرار دیا جا سکتا ہے، ایسے افراد کو مستقبل میں قانونی پیچیدگیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے تاکہ امیگریشن کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے، جس سے سیکیورٹی خطرات کی بہتر طریقے سے شناخت اور ان سے نمٹا جا سکے گا۔ حکام نے واضح کیا کہ کینیڈین حکومت کو قومی مفاد، سلامتی یا دیگر وجوہات کی بنیاد پر امیگریشن درخواستوں (PR، TRV، ورک/سٹڈی پرمٹ) کو معطل یا منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
اس کے علاوہ کچھ اہم طریقہ کار بھی متعارف کرایا گیا ہے جس کے مطابق اگر کوئی درخواست گزار کینیڈا میں موجود نہیں ہے تو اس کی سیاسی پناہ کی درخواست یا اپیل پر عموماً کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ اگر کوئی شخص رضاکارانہ طور پر اس ملک میں واپس آتا ہے جہاں اسے خطرہ قرار دیا گیا تھا، تو اس کی درخواست کو ترک کر دیا جائے گا۔
اسی طرح، اگر کوئی درخواست دہندہ ضروری دستاویزات فراہم کرنے یا امیگریشن حکام کی طرف سے درخواست کردہ انٹرویوز میں شرکت کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو اس کی درخواست کو واپس لینے یا ترک کرنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ بیورو نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ذرائع سے گریز کریں اور کسی بھی قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے تمام درخواستیں درست معلومات کے ساتھ جمع کروائیں۔
مزید پڑھیں:سابق کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اور کیٹی پیری کی رومانوی تصاویر وائرل، شادی کی خبروں نے زور پکڑ لیا





