کوئٹہ(اوصاف نیوز)وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں نے پاکستان کو بہت بڑی تباہی سے بچاتے ہوئے بلوچستان سے ایک خاتون خودکش بمبار کو گرفتار کیا۔
کوئٹہ میں مشتبہ خاتون خودکش بمبار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا ہمارے ساتھ بیٹھی خاتون خودکش حملے کے مشن پر تھی، خاتون خودکش حملہ آور کو اسلام آباد میں حملے کا ہدف دیا گیا تھا، خفیہ ایجنسی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردی کے منصوبے کو ناکام بنایا۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں عرصے سے خواتین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ بلوچ روایات کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’تاریخی طور پر بلوچ سماج میں خواتین کبھی جنگ کا حصہ نہیں رہیں
بلکہ وہ ہمیشہ امن کی علامت رہی ہیں۔ خواتین جنگیں ختم کرنے کے لیے کردار ادا کرتی تھیں۔‘ ان کا کہنا تھا ہم بچیوں کو تعلیم دینا چاہتے ہیں جبکہ دہشت گرد انہیں خودکش جیکٹس پہنا رہے ہیں، ہم بچی کو باعزت طریقے سے اس کے والد کے حوالے کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گرد خواتین کو پھنساتے ہیں، بین الاقوامی آقاوں کو خوش کرنے کے لیے دہشت گرد بچیوں کا استحصال کرتے ہیں، خاتون کو دھمکی دی گئی کہ خود کش حملہ نہ کیا تو والد کو مار دیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل اس لڑکی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد سکیورٹی اداروں نے تحقیقات شروع کیں۔ ان کے مطابق لڑکی لاپتا نہیں تھی بلکہ ایک دہشت گرد تنظیم کے کیمپ میں تربیت حاصل کر رہی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ’لڑکی تربت سے اسلام آباد جا رہی تھی جہاں اس سے خودکش حملہ کروانے کا منصوبہ تھا، تاہم اسے یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ ہدف کیا ہو گا۔‘ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی ادارے تعریف کے مستحق ہیں جنہوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسلام آباد میں ممکنہ تباہی کا منصوبہ ناکام بنایا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس لڑکی کا والد ایک ٹرک ڈرائیور ہے اور حکومت آج اسے باعزت طریقے سے اس کے والد کے حوالے کر رہی ہے جبکہ لڑکی اور اس کے خاندان کی سکیورٹی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کم عمر لڑکی کا ’بری طرح استحصال‘ کیا گیا اور ’دہشت گرد تنظیموں کا یہ طرز عمل باعث شرمندگی ہے۔‘ سرفراز بگٹی نے کالعدم تنظیم کے رہنما بشیر زیب کا نام لیتے ہوئے کہا کہ انہیں اور ان کی تنظیم کو اس اقدام پر شرم آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ غربت دہشت گردی کا جواز نہیں بن سکتی کیونکہ غریب لوگ محنت کر کے باعزت روزگار کماتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ کوئٹہ اور تربت میں دو مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں دہشت گردی سے متاثر یا گرفتار افراد کی ذہنی بحالی اور رہنمائی کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ مرکز میں اس وقت 40 افراد موجود ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں جبکہ ان افراد کا خصوصی خیال رکھا جا رہا ہے اور ان کی اپنے خاندانوں سے باقاعدہ ملاقاتیں بھی کروائی جاتی ہیں۔
مزید پڑھیں:نوشہرہ؛ اراضی کے تنازع پر دو گروپوں کے درمیان فائرنگ، 7افراد جاں بحق


