Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

تنخوا دار طبقے کیلئے بڑے ٹیکس ریلیف پر غور،آئی ایم ایف کی منظوری کا انتظار

اسلام آباد(اے بی این نیوز)نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو بڑا ٹیکس ریلیف دینے کے لیے حکومت کو آئی ایم ایف کی جانب سے تجاویز کی منظوری کا انتظار ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کو حتمی شکل دینے کے عمل میں مصروف ہے، تاہم کئی اہم ٹیکس اقدامات اور ریلیف پیکیجز پر عملدرآمد کے لیے ابھی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے مختلف شعبوں کو ریلیف دینے اور ٹیکس نظام میں بعض تبدیلیوں کی تجاویز عالمی مالیاتی ادارے کے سامنے رکھ دی ہیں۔

بجٹ تجاویز میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس سلیب میں کمی، سپر ٹیکس کی شرح میں 2 فیصد کمی اور برآمدی شعبے پر عائد ایک فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس ختم کرنے کی سفارش شامل ہے۔

اس کے علاوہ پراپرٹی سیکٹر کے لیے بھی متعدد مراعات اور سہولتوں پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ اس خصوصاً شعبے میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

دوسری جانب رپورٹ کے مطابق بعض مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کی تجاویز بھی زیر بحث ہیں۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ سولر پینلز، ہائبرڈ گاڑیوں اور تقریباً 20 سے زائد دیگر اشیا پر جنرل سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کی عمومی شرح تک لے جانے کے معاملے پر آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے الیکٹرک گاڑیوں پر نسبتاً کم شرحِ ٹیکس برقرار رکھنے کی درخواست بھی کی ہے۔ حکام کے مطابق یہ تجویز توانائی کے تحفظ اور ماحولیاتی اہداف کے تناظر میں پیش کی گئی ہے اور اسے 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلیٹی پروگرام سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس وصولیوں کے اہداف بھی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ رواں مالی سال کے لیے ایف بی آر کا ہدف کم کر کے 13 ہزار 428 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اگلے مالی سال کے لیے اسے بڑھا کر 15 ہزار 264 ارب روپے تک لے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس بڑے ہدف کے حصول کے لیے حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مختلف مالیاتی آپشنز پر تفصیلی مشاورت جاری ہے۔
مزید پڑھیں: جمعیت علماء اسلام (ف) نے گلگت بلتستان انتخابات کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کردیا

یہ بھی پڑھیں