اسلام آباد (اوصاف نیوز) وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت قومی اقتصادی کونسل کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا گیا، اب اجلاس کل ساڑھے گیارہ بجے ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت اور اس کی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے درمیان معاملات طے نہ ہونے کے باعث قومی اقتصادی کونسل کا آج ہونے والا انتہائی اہم اجلاس ملتوی کر دیا گیا ، یہ اجلاس اب کل دوبارہ طلب کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اس اہم اجلاس کی صدارت وزیر اعظم شہباز شریف نے کرنا تھی، جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، صوبائی وزرائے خزانہ اور وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر کی شرکت شیڈول تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ اور دیگر معاشی معاملات پر حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان ڈیڈ لاک کے باعث فی الحال یہ اجلاس وزیر اعظم ہاؤس کے روزمرہ شیڈول سے نکال دیا گیا ہے۔
قومی اقتصادی کونسل کے اس اجلاس میں آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی طور پر 4,458 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ منظوری کے لیے پیش کیا جانا تھا۔
جس میں پنجاب کا چودہ سو پچاس ارب روپے، سندھ کے لیے آٹھ سو سولہ ارب روپے، خیبرپختونخوا کا پانچ سو چونسٹھ ارب اور بلوچستان کیلئے تین سو آٹھ ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوسکتا تھا۔
قومی اقتصادی کونسل کا یہ اجلاس اس لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس آئینی ادارے کی منظوری کے بغیر وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس میں تاخیر کے باعث اب وفاق اور صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرامز کی حتمی منظوری کل تک مؤخر ہو گئی ہے۔

