اسلام آباد: تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے اہم تجاویز تیار کر لی گئی ہیں، تاہم ان پر عملدرآمد کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے اور مختلف شعبوں کے لیے ریلیف پیکج پر غور جاری ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے ٹیکس نظام میں متعدد تبدیلیوں کی تجاویز آئی ایم ایف کے سامنے پیش کر دی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مجوزہ تجاویز میں تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس سلیب میں کمی، سپر ٹیکس کی شرح میں دو فیصد تک کمی اور برآمدی شعبے پر عائد ایک فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس ختم کرنے کی سفارش شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پراپرٹی سیکٹر کو بھی متحرک کرنے کے لیے مختلف مراعات اور سہولتوں پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکے۔
دوسری جانب بعض مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز بھی زیر بحث ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سولر پینلز، ہائبرڈ گاڑیوں اور دیگر متعدد اشیا پر جنرل سیلز ٹیکس کو 18 فیصد تک بڑھانے کے معاملے پر آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔
حکومت نے ماحول دوست پالیسیوں کے تحت الیکٹرک گاڑیوں پر کم ٹیکس برقرار رکھنے کی درخواست بھی کی ہے۔ حکام کے مطابق یہ تجویز توانائی کے تحفظ اور ماحولیاتی اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کی تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو لاکھوں ملازمین کو مالی بوجھ میں کمی کا فائدہ مل سکتا ہے۔ تاہم حتمی اعلان وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔


