Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

انمول پنکی قتل کیس میں تفتیش کی سنگین خامیاں سامنے آگئیں

کراچی: انمول پنکی قتل کیس میں پولیس تحقیقات کے دوران متعدد اہم خامیوں اور شواہد کی کمی کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد پراسیکیوشن نے تفتیشی عمل پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے عبوری چالان کا جائزہ لینے کے بعد یہ نشاندہی کی گئی کہ انمول پنکی قتل کیس کی ایف آئی آر تقریباً 30 روز کی تاخیر سے درج کی گئی، جبکہ چالان جمع کرانے میں بھی غیر معمولی تاخیر دیکھنے میں آئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تفتیشی افسر مقتول کی شناخت کے حوالے سے ضروری تصدیقی عمل مکمل کرنے میں ناکام رہے۔ لاپتہ افراد کے ریکارڈ اور متعلقہ ڈیٹا بیس سے معلومات حاصل کرنے کے لیے بھی مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

پراسیکیوشن کے مطابق کیس سے متعلق ڈیجیٹل شواہد بروقت محفوظ نہیں کیے گئے، جبکہ جائے وقوعہ کے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل نہیں کی گئی۔ مزید یہ کہ ممکنہ عینی شاہدین کو تلاش کرنے اور ان کے بیانات ریکارڈ کرنے میں بھی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔

پراسیکیوشن نے اپنی رپورٹ میں تحقیقات کو نامکمل قرار دیتے ہوئے مزید شواہد اکٹھے کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس کے علاوہ شکایت کنندہ کا بیان ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت عدالت میں ریکارڈ کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق عبوری چالان عدالت میں جمع کرا دیا گیا ہے، تاہم حتمی چالان فرانزک رپورٹس اور مزید تحقیقات مکمل ہونے کے بعد پیش کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ انمول عرف پنکی کو رواں سال کراچی کے علاقے گارڈن میں منشیات اور غیر قانونی اسلحے سے متعلق مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کیس نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خاصی عوامی توجہ حاصل کی ہے اور اب تحقیقات میں سامنے آنے والی خامیوں نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں