Search
Close this search box.
منگل ,09 جون ,2026ء

ایپل نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں گوگل کا سہارا لے لیا

کیلیفورنیا: دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی نئی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے گوگل کے تعاون سے جدید اے آئی فیچرز متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی نے اپنی سالانہ ڈویلپرز کانفرنس میں آئی فون کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی متعدد نئی سہولیات پیش کیں۔

ایپل اے آئی منصوبے کے تحت کمپنی نے اس بار اپنی اندرونی ٹیکنالوجی پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے گوگل کے جیمینائی ماڈل کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایپل مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں محتاط انداز اپنانا چاہتا ہے۔

تقریب کے دوران ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک نے اپنی آخری ڈویلپرز کانفرنس میں شرکت کی۔ انہوں نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے اپنے دور کو زندگی کا ایک اعزاز قرار دیا۔ اعلان کے مطابق ستمبر میں کمپنی کی قیادت جان ٹرنس کے سپرد کردی جائے گی۔

ایپل نے ایک بار پھر جدید “سری اے آئی” متعارف کرانے کا وعدہ کیا ہے، جو صارفین کے ساتھ زیادہ قدرتی انداز میں گفتگو کر سکے گی اور مختلف ایپلی کیشنز کے درمیان معلومات کو سمجھتے ہوئے متعدد کام انجام دے گی۔ کمپنی کے مطابق بعض جدید فیچرز پر روزانہ استعمال کی حد مقرر ہوگی کیونکہ ان کے لیے طاقتور سرورز کی ضرورت ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپل کی نئی حکمت عملی دیگر کمپنیوں سے مختلف ہے۔ جہاں کئی ٹیکنالوجی ادارے مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر پر اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں، وہیں ایپل کم لاگت کے ساتھ جدید سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

کمپنی نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے نئے پیرنٹل کنٹرولز بھی متعارف کرائے ہیں، جن میں اسکرین ٹائم اور سوشل میڈیا استعمال کی نگرانی کے بہتر فیچرز شامل ہیں۔

دوسری جانب ایپل کے حصص کی قیمت میں رواں سال تقریباً 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ آئی فون کی فروخت بھی متعدد ممالک میں دو ہندسوں کی شرح سے بڑھی ہے، جو کمپنی کے لیے مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں