اسلام آباد: سائبر حملے دنیا بھر میں صنعتی اور مینوفیکچرنگ شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ عالمی سائبر سیکیورٹی کمپنی کیسپرسکی کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران صنعتی کنٹرول سسٹمز پر حملوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں صنعتی کنٹرول سسٹمز کے 19.6 فیصد کمپیوٹرز پر نقصان دہ سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ کیسپرسکی کے حفاظتی نظام نے مختلف اقسام کے 10 ہزار سے زائد میلویئر گروپس سے وابستہ خطرات کو بلاک کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق افریقہ سب سے زیادہ متاثرہ خطہ رہا جہاں 27.4 فیصد صنعتی کمپیوٹرز پر حملوں کی کوشش کی گئی، جبکہ شمالی یورپ میں یہ شرح 9.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں یورپ اور ایشیا سمیت کئی خطوں میں مینوفیکچرنگ سیکٹر پر سائبر حملے مزید بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بایومیٹرک سسٹمز سب سے زیادہ خطرات کا شکار رہے، جہاں 26.4 فیصد سسٹمز پر سائبر حملوں کو روکا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سسٹمز کو اکثر انٹرنیٹ اور ای میل تک براہ راست رسائی حاصل ہوتی ہے جبکہ کئی اداروں میں مناسب سائبر سیکیورٹی اقدامات بھی موجود نہیں ہوتے۔
علاقائی سطح پر جنوبی یورپ بایومیٹرک سسٹمز پر حملوں کے حوالے سے سرفہرست رہا، جبکہ افریقہ اور وسطی ایشیا بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ دوسری جانب مینوفیکچرنگ صنعت میں جنوب مشرقی ایشیا، افریقہ اور جنوبی ایشیا سب سے زیادہ متاثرہ خطوں میں شامل رہے۔
کیسپرسکی آئی سی ایس سرٹ کے سربراہ ایوجینی گونچاروف کے مطابق کئی فیکٹریاں اب بھی پرانے آپریشنل ٹیکنالوجی سسٹمز استعمال کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے وہ سائبر خطرات کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپلائی چین کی پیچیدگی اور مختلف شراکت داروں کے وسیع نیٹ ورک نے بھی حملہ آوروں کے لیے راستے آسان بنا دیے ہیں۔
ماہرین نے صنعتی اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے سسٹمز کا باقاعدگی سے سیکیورٹی آڈٹ کروائیں، جدید حفاظتی سافٹ ویئر استعمال کریں اور سائبر خطرات کی بروقت نشاندہی کے لیے جدید مانیٹرنگ سسٹمز اپنائیں تاکہ مالی نقصانات اور آپریشنل رکاوٹوں سے بچا جا سکے۔

