لندن(نیوز ڈیسک)وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر(keir starmer) کی حکومت کے ساتھ دفاعی اخراجات کے معاملے پر شدید اختلافات کے بعد برطانیہ کے وزیرِ دفاع جان ہیلی(John Healey ) نے جمعرات کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔
ان کا استعفیٰ نیٹو کے اہم سربراہی اجلاس سے چند ہفتے قبل برطانوی حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، اس اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شرکت کریں گے۔
جان ہیلی کے استعفے کی بنیادی وجہ ڈیفینس انویسٹمنٹ پلان میں تاخیر بتائی جا رہی ہے،جو فوجی سرمایہ کاری اور دفاعی تیاریوں کے لیے حکومت کا طویل عرصے سے وضع کردہ روڈ میپ تھا۔
دوسری جانب نیٹو کے اتحادی ممالک پر بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ایسوسی ایٹ فیلو ایڈ آرنلڈ نے کہا کہ جان ہیلی کا استعفیٰ حکومت اور وزارتِ دفاع دونوں کے لیے ایک غیرمعمولی واقعہ ہے۔
ان کے مطابق حکومت کو اب نئے وزیرِ دفاع کی تقرری اور دفاعی سرمایہ کاری منصوبے کی اشاعت جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق جان ہیلی گزشتہ چند ہفتوں سے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر اور وزیرِ خزانہ ریچل ریوز کے ساتھ دفاعی سرمایہ کاری منصوبے کے حجم اور اس کے نفاذ کے شیڈول پر مذاکرات کر رہے تھے۔
تاہم اسٹارمر نے 2035 تک دفاعی اخراجات کو مجموعی قومی پیداوار کے 3.5 فیصد تک لے جانے کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن دینے سے انکار کر دیا، حالانکہ انہوں نے گزشتہ سال نیٹو اجلاس میں صدر ٹرمپ سے ایسا وعدہ کیا تھا۔
مزید پڑھیں۔وفاقی آئینی عدالت: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس سماعت کیلئے مقرر


