اسلام آباد(رضوان عباسی )وفاقی بجٹ 2026-27 میں درآمدی میک اپ، بیوٹی اور ذاتی استعمال کی مختلف مصنوعات پر عائد ڈیوٹیوں میں کمی کی تجویز زیر غور ہے، جس کے نتیجے میں ان اشیا کی قیمتوں میں کمی آنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق بناؤ سنگھار کے سامان پر عائد ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں 2 سے 5 فیصد تک کمی کی جا سکتی ہے۔ مجوزہ رعایت ان مصنوعات پر دیے جانے کا امکان ہے جن میں لپ اسٹک، فیس پاؤڈر، آئی لائنر، مسکارا، میک اپ کٹس، فیس شائنر، میں اپ بیس کریم اور دیگر کاسمیٹکس شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بالوں کو سیدھا یا گھنگھریالا کرنے والے برقی آلات، ہیئر کلرز، ہیئر ریموونگ کریمز اور مصنوعی زلفوں پر بھی ڈیوٹی میں 2 سے 5 فیصد تک کمی کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح درآمدی پرفیوم، باڈی اسپرے، لوشن، کریمز، فیس واش اور فیشل کریمز پر بھی ڈیوٹی کم کیے جانے کا امکان ہے۔ آنکھوں کے میک اپ سے متعلق مصنوعات کو بھی مجوزہ رعایت میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق درآمدی پرس، سن گلاسز، برانڈڈ جوتوں، ملبوسات اور بیلٹس پر عائد ڈیوٹیوں میں بھی 2 سے 5 فیصد تک کمی کی تجویز زیر غور ہے۔
علاوہ ازیں شیونگ کے سامان اور دیگر ذاتی استعمال کی بعض درآمدی اشیا پر بھی ڈیوٹی کم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تجاویز کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دی جائے گی، جس کے بعد انہیں بجٹ 2026-27 کا حصہ بنایا جائے گا۔
بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کی تجاویز زیر غور
وفاقی بجٹ 2026-27 میں تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں ریلیف دینے کی مختلف تجاویز زیر غور ہیں، تاہم حتمی فیصلہ آج وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ماہانہ ایک لاکھ 83 ہزار روپے تک آمدنی رکھنے والے ملازمین کے لیے ٹیکس ریلیف کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ اس سے زیادہ آمدنی والے تنخواہ دار افراد کو ریلیف دینے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس کے سلیبز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ مختلف آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس ڈھانچے کو مزید متوازن بنایا جا سکے۔
مجوزہ تجاویز کے مطابق ماہانہ تقریباً 2 لاکھ 67 ہزار روپے آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں 5 فیصد کمی کی سفارش کی گئی ہے۔ اس سلیب میں ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم ہو کر 20 فیصد ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح بھی 35 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جس سے نسبتاً زیادہ آمدنی رکھنے والے ملازمین کو ریلیف مل سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریلیف سے متعلق تمام تجاویز وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائیں گی اور حتمی منظوری کے بعد انہیں وفاقی بجٹ 2026-27 کا حصہ بنایا جائے گا۔
بجٹ 2026-27: حکومت نے معاشی ترقی کا ہدف 4 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دے دی
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے ملکی معیشت کی ترقی (شرح نمو) کا ہدف 4 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ مہنگائی کی سالانہ شرح 8.2 فیصد رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال خدمات کے شعبے کی ترقی کا ہدف 4.2 فیصد اور صنعتی شعبے کی شرح نمو 4 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ زرعی شعبے کے لیے 3.8 فیصد ترقی کا ہدف رکھا گیا ہے جبکہ اہم فصلوں کی پیداوار میں 3.6 فیصد اور دیگر فصلوں میں 4.2 فیصد اضافے کا ہدف تجویز کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق مجموعی سرمایہ کاری کا ہدف 15 فیصد، قومی بچتوں (نیشنل سیونگز) کا ہدف 14.3 فیصد اور فکسڈ انویسٹمنٹ کا ہدف 13.3 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پبلک اور جنرل گورنمنٹ انویسٹمنٹ کا ہدف 3 فیصد جبکہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری کا ہدف 10.3 فیصد تجویز کیا گیا ہے۔
زرعی شعبے کے ذیلی شعبوں میں کاٹن جننگ کے لیے 2.5 فیصد، لائیو اسٹاک کے لیے 3.9 فیصد، جنگلات کے لیے 3.2 فیصد اور ماہی گیری کے لیے 1.5 فیصد ترقی کا ہدف مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
صنعتی شعبے میں مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 5.8 فیصد رکھنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ بڑی صنعتوں کے لیے 4.5 فیصد اور چھوٹی صنعتوں کے لیے 7.2 فیصد ہدف تجویز کیا گیا ہے۔ سلاٹرنگ سیکٹر کے لیے 6.5 فیصد، بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے کے لیے 1.1 فیصد اور تعمیراتی شعبے کے لیے 2.2 فیصد ترقی کا ہدف رکھا گیا ہے۔
خدمات کے شعبے میں ہول سیل و ریٹیل تجارت کے لیے 4.2 فیصد، ٹرانسپورٹ، اسٹوریج اور کمیونیکیشن کے لیے 3.7 فیصد، رہائش اور خوراک سے متعلق خدمات کے لیے 4 فیصد اور انفارمیشن و کمیونیکیشن کے شعبے کے لیے 7.7 فیصد ترقی کا ہدف تجویز کیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق مالیاتی اور انشورنس خدمات کے لیے 4.5 فیصد، ریئل اسٹیٹ سرگرمیوں کے لیے 3.5 فیصد، پبلک ایڈمنسٹریشن اور سوشل سیکیورٹی کے لیے 4 فیصد، تعلیم کے شعبے کے لیے 3.6 فیصد جبکہ صحت اور سماجی خدمات کے شعبے کے لیے 4.3 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وفاقی کابینہ آج بجٹ 2026-27 کی منظوری دے گی، تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجاویز زیر غور
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس آج منعقد ہوگا جس میں مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ اور فنانس بل کی منظوری دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس دوپہر دو بجے ہوگا، جس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ 2026-27 کے اہم نکات پر کابینہ کو بریفنگ دیں گے۔ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے مجوزہ ٹیکس اقدامات، محصولات کے اہداف اور مختلف مالی تجاویز پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سے متعلق مختلف تجاویز بھی کابینہ کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ تنخواہوں اور پنشن میں 5، 7، 10 اور 15 فیصد اضافے کی مختلف تجاویز زیر غور ہیں، جبکہ حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی۔
وزارت خزانہ کی جانب سے تنخواہوں، پنشن اور ٹیکس سے متعلق سفارشات اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں ریلیف دینے کی تجویز پر بھی غور کیا جائے گا، جبکہ زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
اجلاس میں نئے مالی سال کے مجوزہ ٹیکس اقدامات اور مختلف ٹیکس شرحوں میں تبدیلیوں کی منظوری بھی متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹیکس ریلیف سے متعلق اقدامات اور دیگر مالی تجاویز کی وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کریں گے۔
وفاقی بجٹ 2026-27: ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کا حجم ایک ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق ملک بھر میں ترقیاتی منصوبوں، انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، توانائی اور مواصلات کے شعبوں کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے لیے 602 ارب 50 کروڑ روپے جبکہ سماجی شعبوں کے منصوبوں کے لیے 180 ارب 60 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 56 ارب روپے اور آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر خصوصی علاقوں کے لیے 89 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ میں سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کے لیے 41 ارب روپے، گورننس کے لیے 13 ارب روپے اور پیداواری شعبوں کے لیے بھی 13 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
توانائی کے منصوبوں کے لیے 116 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن کے منصوبوں کے لیے 356 ارب روپے اور آبی منصوبوں کے لیے 76 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ کے منصوبوں کے لیے 55 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
تعلیم کے شعبے بشمول ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے لیے 75 ارب روپے جبکہ صحت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 22 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ پارلیمنٹرینز کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 63 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
خوراک و زراعت کے شعبے کے لیے 5 ارب روپے اور صنعتوں کے فروغ کے لیے 8 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (NHA) کے لیے 224 ارب 51 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وزارت آبی وسائل کو 103 ارب روپے کے ساتھ سب سے بڑا ترقیاتی حصہ دار قرار دیا گیا ہے، جبکہ پاور ڈویژن، این ٹی ڈی سی اور پیپکو کے منصوبوں کے لیے 88 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
کابینہ ڈویژن کے لیے 64 ارب 8 کروڑ روپے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 46 ارب روپے، وزارت ریلوے کے لیے 40 ارب 66 کروڑ روپے اور وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے لیے 36 ارب 31 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبوں اور خصوصی علاقوں کے لیے مجموعی طور پر 233 ارب 39 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں، جن میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 89 ارب روپے شامل ہیں۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام ڈویژن کے لیے 19 ارب 58 کروڑ روپے، وزارت قومی صحت خدمات کے لیے 16 ارب روپے اور وزارت داخلہ کے لیے 21 ارب 82 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک 2.0 کے تحت نئی اسکیموں کے لیے ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

