Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

اے آئی روبوٹس کی تربیت سے گھر بیٹھے ڈالر کمانے کا نیا موقع

نئی دہلی: مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا شروع کر دیے ہیں، اور اب اے آئی روبوٹس کی تربیت بھی آمدنی کا ایک منفرد ذریعہ بن چکی ہے۔ بھارت میں ہزاروں افراد روزمرہ گھریلو کاموں کی ویڈیوز بنا کر ڈالرز میں معاوضہ حاصل کر رہے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف ٹیکنالوجی کمپنیاں ایسے افراد کی ویڈیوز خرید رہی ہیں جن میں وہ کپڑے تہہ کرتے، کھانا تیار کرتے، برتن دھوتے یا دیگر روزمرہ کام انجام دیتے نظر آتے ہیں۔ ان ویڈیوز کو مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹس کی تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ وہ انسانی حرکات و سکنات کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی بھارت سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون روزانہ اپنے سر پر اسمارٹ فون باندھ کر گھریلو کاموں کی ویڈیوز ریکارڈ کرتی ہیں اور اس کے بدلے انہیں فی گھنٹہ دو ڈالر سے زائد معاوضہ ملتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ان ویڈیوز کو “ایگو سینٹرک ڈیٹا” کہا جاتا ہے، جو انسان کے نقطۂ نظر سے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ یہی ڈیٹا مستقبل کے جدید ہیومنائیڈ روبوٹس کو حقیقی ماحول میں کام کرنے کے قابل بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کافی بنانا، سینڈوچ تیار کرنا، کپڑے تہہ کرنا اور دیگر معمول کے کاموں سے متعلق ویڈیوز کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اے آئی روبوٹس کی تربیت سے وابستہ افراد کے لیے آمدنی کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔

دوسری جانب بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے روایتی ملازمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم ٹیکنالوجی انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ مستقبل میں انسان اور روبوٹ ایک دوسرے کے معاون کے طور پر کام کریں گے، جس سے نئے شعبوں میں روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کا یہ انقلاب آنے والے برسوں میں دنیا بھر کے روزگار، صنعت اور کاروبار کے انداز کو نمایاں طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں