جے پور: بھارت میں تعلیمی نظام، پرچوں کے مبینہ لیک ہونے اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے پر حملے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جے پور میں ہونے والے احتجاج کے دوران اچانک چند افراد ابھجیت دیپکے کے قریب پہنچ گئے۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص نے ان کے گلے میں موجود صافہ کھینچا، جس کے بعد دو افراد نے مبینہ طور پر انہیں تھپڑ اور مکے مارے۔
واقعے کے بعد احتجاجی مقام پر شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ ابھجیت دیپکے کے حامیوں نے مبینہ حملہ آوروں کو پکڑ لیا اور ان پر تشدد کیا، جس کے باعث وہاں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔
حملے کے بعد ابھجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات ان کی تحریک کا راستہ نہیں روک سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تعلیمی اصلاحات اور نوجوانوں کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے ایک بار پھر بھارتی وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تعلیمی مسائل اور بے روزگاری کے بحران پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور حملے میں مبینہ طور پر ملوث 6 افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث ہے جہاں صارفین مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے حامیوں نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
