کراچی: سندھ بجٹ 2026-27 میں سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز سامنے آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد جبکہ پنشن میں 5 فیصد اضافے کی سفارش کی ہے۔
کابینہ کے اجلاس کے دوران آئندہ مالی سال کے مالی معاملات اور بجٹ تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ حکام نے اجلاس میں بتایا کہ موجودہ مالی حالات اور بجٹ پر دباؤ کے باعث تنخواہوں میں زیادہ اضافہ کرنا مشکل ہے، تاہم ملازمین کو ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ابتدائی طور پر تنخواہوں میں کم از کم 10 فیصد اضافے پر غور کر رہی تھی، لیکن مالی مشکلات کے باعث اس تجویز کو عملی شکل دینا ممکن نہ ہوسکا۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کم گریڈ کے ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے زیادہ ریلیف دیا جانا چاہیے۔
سندھ بجٹ 2026-27 کی تجاویز کے مطابق صوبے کا مجموعی بجٹ حجم 3.4 کھرب روپے سے زائد رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 2.56 کھرب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسری جانب صوبائی حکومت نے آئندہ مالی سال میں نئی ترقیاتی اسکیمیں شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بجٹ میں توجہ جاری ترقیاتی منصوبوں پر مرکوز رکھی جائے گی، جن کی تعداد 3,642 بتائی گئی ہے۔ ان منصوبوں کے لیے 400 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر خزانہ مراد علی شاہ آج صوبائی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے، جس کے بعد حتمی اعلانات سامنے آئیں گے۔




