Search
Close this search box.
بدھ ,17 جون ,2026ء

گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر منصوبہ، اخراجات وفاق برداشت کرے گا

گلگت بلتستان سولر منصوبہ کے حوالے سے وفاقی حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے 100 میگاواٹ کے بڑے شمسی توانائی منصوبے کے تمام اخراجات خود برداشت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والے جائزہ اجلاس میں منصوبے کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور اسے مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ انہوں نے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ہر مرحلے پر آزاد تھرڈ پارٹی آڈٹ اور تصدیق کا بھی حکم دیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ گلگت بلتستان میں سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن کے لیے 18 میگاواٹ کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ گلگت اور دیامر ڈویژن میں سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا عمل دسمبر 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جبکہ بلتستان ڈویژن میں یہ منصوبہ اکتوبر 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔

حکام نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گھریلو صارفین کے لیے 82 میگاواٹ کے اضافی سولر منصوبے پر بھی کام جاری ہے، جس سے گلگت، اسکردو، چلاس اور خپلو کے ہزاروں گھرانے مستفید ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے نہ صرف توانائی کے بحران میں کمی لائیں گے بلکہ ماحول دوست ترقی کو بھی فروغ دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ملک بھر میں سستی اور پائیدار توانائی کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔

اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی، زمین کی زرخیزی اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر بھی گفتگو کی گئی۔ وزیراعظم نے تمام اداروں، ماہرین اور مقامی کمیونٹیز پر زور دیا کہ وہ قدرتی وسائل کے تحفظ اور ماحول دوست ترقی کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔

یہ بھی پڑھیں