Search
Close this search box.
بدھ ,17 جون ,2026ء

ہمیں پنجاب سے الگ کیا جائے، سرائیکستان صوبہ بنایا جائے: سینیٹر رانا محمود

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رانا محمود الحسن نے ایک بار پھر سرائیکستان صوبہ کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو ان کا الگ انتظامی اور سیاسی حق دیا جانا چاہیے۔

سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب کسی صوبے کی آبادی اور حجم بہت زیادہ بڑھ جائے تو بہتر انتظامی امور کے لیے اس کی تقسیم ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کے عوام مزید “تخت لاہور” کے زیر انتظام نہیں رہنا چاہتے بلکہ انہیں اپنا الگ صوبہ درکار ہے۔

سینیٹر رانا محمود الحسن نے سوال اٹھایا کہ آخر سرائیکستان صوبہ کے قیام میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ملتان خطے کی اہمیت مسلمہ رہی ہے جبکہ بہاولپور نے بھی قیام پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنوبی پنجاب میں صنعتی زونز، ہائی کورٹ، این ایف سی میں مناسب حصہ اور ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دی جائے۔ ان کے مطابق خطے کی ترقی کے لیے زرعی اور آئی ٹی جامعات کا قیام بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین Bilawal Bhutto Zardari نے بھی جنوبی پنجاب کے عوام کو اپنے صوبے کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اپنی تقریر کے دوران انہوں نے ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 70 لاکھ بچے پیدا ہو رہے ہیں، تاہم یہ سوال اہم ہے کہ ان کے لیے روزگار، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کیسے ممکن بنائی جائے گی۔

انہوں نے زور دیا کہ ملک کی پائیدار ترقی کے لیے آبادی، روزگار اور علاقائی ترقی جیسے مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں