اسلام آباد: تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے اہم وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم آمدنی والے ملازمین پر کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا جا رہا بلکہ نئے مالی سال کے بجٹ میں انہیں ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
اپنے ویڈیو پیغام میں عطا تارڑ نے واضح کیا کہ جن افراد کی ماہانہ آمدنی 50 ہزار روپے یا اس سے کم ہے، ان پر کوئی انکم ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کم آمدنی والے طبقے کو مکمل تحفظ دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر کے مطابق 50 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد پر صرف ایک فیصد ٹیکس لاگو ہوگا، جبکہ اس سے اوپر کی تمام آمدنی کی سطحوں میں بھی ٹیکس کی شرح کم کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدن رکھنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر دی گئی ہے۔ اسی طرح 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے آمدن والوں کے لیے شرح 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
عطا تارڑ کے مطابق 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے سالانہ آمدن والے افراد کے لیے ٹیکس 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد جبکہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے آمدن والوں کے لیے شرح 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کر دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں کمی کے ساتھ ساتھ 9 فیصد سرچارج کو بھی مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جس سے ملازمین کو مزید مالی سہولت حاصل ہوگی۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ متوسط اور تنخواہ دار طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے اور ٹیکس نظام کو مزید منصفانہ بنایا جائے۔
