اسلام آباد (اوصاف نیوز) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے مستحق خواتین کی مالی خودمختاری اور سہولت کیلئے ایک اہم اور انقلابی اقدام کرتے ہوئے ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے ادائیگیوں کا نیا نظام متعارف کرا دیا ہے۔
اس سلسلے میں بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ون لنک اور پارٹنر بینکوں کے درمیان انٹرآپریبل ادائیگی نظام کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ تقریب میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ون لنک، حبیب بینک، بینک الفلاح، بینک آف پنجاب، ایچ بی ایل مائیکرو فنانس بینک، ایزی پیسہ، جاز کیش اور ورلڈ بینک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ یہ پیش رفت ادائیگیوں کے نظام میں بنیادی تبدیلی کا آغاز ہے، جس کے تحت مستحق خواتین اب اپنے ڈیجیٹل والٹ میں موصول ہونے والے وظائف ملک بھر میں کسی بھی پارٹنر بینک کے قریبی ریٹیلر سے وصول کر سکیں گی۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ بی آئی ایس پی کی تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے منتقل کی جائیں گی، جس سے ادائیگیوں کا نظام مزید آسان، محفوظ اور شفاف ہوگا۔ اس نئے نظام کے تحت طویل قطاروں، غیر ضروری سفر اور رقوم کے حصول میں درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔











سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی ہدایت تھی کہ مستحق افراد کو عزت اور وقار کے ساتھ مالی معاونت فراہم کی جائے، اور اب یہ خواب حقیقت بن رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام ایک کروڑ سے زائد مستحق خاندانوں کیلئے مالی شمولیت، سہولت اور خودمختاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ خواتین کو اپنی مالی معاونت پر زیادہ اختیار حاصل ہوگا۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے متعلقہ بینکوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ مستحق خواتین کے اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس کو بروقت فعال بنانے، عوامی آگاہی بڑھانے اور بینک ایجنٹس کی مؤثر تربیت کو یقینی بنایا جائے۔
مزید پڑھیں:محرم کی سکیورٹی کیلئے ’’محفوظ محرم‘‘ ایپ متعارف، شہری بھی نگرانی میں شریک
