Search
Close this search box.
جمعرات ,18 جون ,2026ء

کنٹریکٹ ملازمین کے حق میں آئینی عدالت کا اہم فیصلہ، مستقلی کا حکم

اسلام آباد: کنٹریکٹ ملازمین کے حقوق سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم اور دور رس فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مستقل نوعیت کے کاموں کے لیے کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتیاں آئین کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ عدالت نے سابق فاٹا کے ڈسپنسرز کو مستقل کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔

جاری کردہ تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ملازمین کی مستقلی کا معاملہ صرف نوکری تک محدود نہیں بلکہ یہ شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق اور برابری کے اصول سے بھی جڑا ہوا ہے۔ فیصلے کے مطابق اگر کوئی ملازم مستقل نوعیت کی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہو تو اسے طویل عرصے تک عارضی حیثیت میں رکھنا مناسب نہیں۔

عدالت نے صوبائی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ متعلقہ ڈسپنسرز کے لیے 2002ء سے مستقلی کے نوٹیفکیشن جاری کیے جائیں۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ وفاقی کابینہ نے 2008ء میں گریڈ ایک سے 15 تک کے ملازمین کو مستقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور موجودہ کیس اسی پالیسی کے دائرہ کار میں آتا ہے۔

عدالت کے مطابق ریکارڈ میں ایسی کوئی شہادت موجود نہیں کہ ملازمین کو کسی مخصوص منصوبے یا محدود مدت کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود انہیں مستقل کرنے کے بجائے 2010ء میں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا، جو قانونی طور پر درست اقدام نہیں تھا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل آسامیوں پر مسلسل عارضی بنیادوں پر رکھنا آئینی برابری کے اصول کے منافی ہے۔ عدالت نے اس رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں میں عارضی بھرتیوں کو معمول بنانا ملازمین کے بنیادی حقوق کو متاثر کرتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ مستقل روزگار شہریوں کے باوقار زندگی گزارنے کے حق سے جڑا ہوا ہے اور ریاستی اداروں کو ملازمین کے قانونی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں