واشنگٹن(نیوز ڈیسک)سوئس وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان برگن اسٹاک میں آج ہونے والے مذاکرات اب طے شدہ شیڈول کے مطابق نہیں ہوں گے۔ مذاکرات کا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سوئٹزر لینڈ روانگی مؤخر کر دی گئی ہے۔ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق فی الحال نائب صدر آج رات روانہ نہیں ہو رہے۔ امریکا تکنیکی مذاکرات جَلد شروع ہونے کا منتظر ہے۔
قبل ازیں سوئس وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ معاہدے پر عمل درآمد کیلئے امریکا اور ایران کے مندوبین آج برگن اسٹاک میں ملاقات کریں گے۔ اس موقع پر ثالث پاکستان اور قطر کے نمائندے بھی موجود ہوں گے۔
واضح نہیں ہو سکا تھا کہ برجنسٹاک میں ہونے والی بات چیت میں فریقین کے کون سے مندوبین شرکت کریں گے اور یہ کس نوعیت کی ہو گی۔
سوئس حکومت نے اس ملاقات سے متعلق مزید تفصیل جاری نہیں کی تھی ،تاہم یہ بتایا گیا تھا کہ ملاقات میں دیگر ممالک کی شرکت سے متعلق بات بھی نئے اعلامیہ سے نکال دی گئی ہے۔
واضح رہے امریکا اور ایران نے گزشتہ روز طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے تھے جس کے بعد معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔
امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا کہ دونوں ممالک کے صدور نے معاہدے کے حتمی متن پر دستخط کیے جس کے بعد خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بحری آمدورفت کو معمول پر لانے کے اقدامات شروع کر دیے گئے ۔
امریکی اور ایرانی صدور کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کیے تھے۔
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں۔
وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر پزشکیان کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد معاہدہ خطے میں مشترکہ خوشحالی کی بنیاد بنے گا۔
مزید پڑھیں۔فیفا ورلڈکپ: میکسیکو نے جنوبی کوریا کو ایک صفر سے شکست دیدی