اسلام آباد(رضوان عباسی )شاہ غلام قادر، سردار عتیق احمد خان، نبیلہ ایوب اور کرنل شیراز نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں پاکستان مخالف بیانیہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔
شاہ غلام قادر نے کہا کہ 99.9 فیصد کشمیری عوام پاکستان سے محبت اور نظریۂ الحاقِ پاکستان پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے ہر شہری کا حق ہے، تاہم تشدد، نفرت انگیزی، سرکاری املاک، ہسپتالوں، سڑکوں اور سکیورٹی اداروں پر حملے کسی صورت جائز نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ راولاکوٹ واقعے کے بعد حالات کو دانستہ طور پر خراب کرنے کی کوشش کی گئی اور پاکستان و آزاد کشمیر کے خلاف سازشیں برداشت نہیں کی جائیں گی۔
انہوں نے بعض مقررین کی افواجِ پاکستان سے متعلق تقاریر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی افواج میں بغاوت پر اکسانے کی کوشش سنگین عمل ہے اور پاکستان مخالف بیانیہ دراصل بھارتی ایجنڈا ہے، جسے کشمیری عوام مسترد کرتے ہیں۔
سابق وزیر اعظم وُصدر آل جموں وُکشمئر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پرتشدد کارروائیوں اور ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مطالبات منظور ہونے کے باوجود تحریک کو آئینی اور سیاسی تنازعے کی طرف موڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران مختلف علاقوں میں اربوں روپے کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور 170 سے زائد مقدمات ریکارڈ پر موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پرامن جدوجہد کشمیری سیاست کی روایت رہی ہے اور سیاسی اختلافات کے باوجود ریاستی اداروں اور عوامی املاک پر حملے ناقابل قبول ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 99.99 فیصد کشمیری عوام پاکستان اور نظریۂ الحاقِ پاکستان پر یقین رکھتے ہیں اور پاکستان مخالف بیانیہ کشمیری عوام کی نمائندگی نہیں کرتا۔
وزیر حکومت نبیلہ ایوب نے کہا کہ پاکستان اور افواجِ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی حقوق کے لیے جدوجہد ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن مطالبات کی آڑ میں انتشار، فساد اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مطالبات میں سے اکثریت کو پہلے ہی حل کر چکی ہے، جبکہ آٹے اور بجلی پر دی جانے والی سبسڈی پاکستان کی خصوصی معاونت کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہی مسائل کے حل کا واحد جمہوری راستہ ہیں اور حکومت جائز مطالبات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
کرنل شیراز نے کہا کہ کشمیری عوام کے جائز معاشی مطالبات کی حمایت کرتے ہیں، تاہم آئین اور پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر نے عوامی مسائل کے حل کے نام پر تحریک کو آئینی اور ریاستی معاملات کی طرف موڑ دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج ریاستِ پاکستان کی مرکزِ ثقل ہے اور اس کے خلاف مہم ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ جذباتی نعروں کے بجائے زمینی حقائق کا ادراک کریں اور گمراہ کن بیانیوں سے دور رہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے ایکشن کمیٹی سے منسوب بعض پرتشدد واقعات، نعروں اور پاکستان مخالف بیانات سے متعلق ویڈیو بھی دکھائی۔ مقررین نے اس موقع پر پاکستان اور کشمیر کے رشتے پر کسی قسم کے سمجھوتے کو مسترد کرتے ہوئے ریاستی استحکام، قانون کی بالادستی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر زو دیا۔
مزید پڑھیں:قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کا عمل حتمی مرحلے میں داخل

