اسلام آباد (نیوز ڈیسک) رئیل اسٹیٹ کے تجزیہ کار ایس ملک نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ، رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبوں سے متعلق حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے مختلف پلیٹ فارمز پر بات چیت جاری ہے۔
نجی ٹی وی کے نمائندے سے خصوصی گفتگو میں رئیل اسٹیٹ کے تجزیہ کار ایس ملک نے اس معاملے پر اپنا تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا۔
زیادہ ٹیکس، کم لین دین اور کم ریونیو ٹیکس کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ایس ملک نے پراپرٹی سیکٹر پر عائد مختلف ٹیکسوں بالخصوص سیکشن 236C اور 236K کے اثرات کے بارے میں کہا کہ ٹیکسوں میں اضافے سے جائیداد کی خرید و فروخت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق نہ صرف لین دین میں کمی آئی ہے بلکہ حکومت کا ریونیو بھی متاثر ہوا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے اس سال رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے حکومتی ریونیو میں تقریباً 29 سے 35 فیصد کمی ہوئی ہے جس کے بعد حکومت کو اس شعبے کی اہمیت کا احساس ہوا۔
رئیل اسٹیٹ اور تعمیرات کے شعبے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران تعمیرات اور ہاؤسنگ سیکٹر کو ’غیر پیداواری شعبہ‘ قرار دے کر نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی۔
انہوں نے کہا کہ جب تاجر برادری اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ لوگ مسلسل حکومت کو اس شعبے کی اہمیت سے آگاہ کر رہے تھے تو اس وقت بیوروکریسی، ایف بی آر اور بعض حکومتی حلقے اسے غیر پیداواری شعبہ قرار دے رہے تھے تاہم اب حکومت نے ہاؤسنگ فنانس اور دیگر پالیسیوں میں تبدیلی کا عندیہ دیا ہے جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔
رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سازگار ماحول فراہم کرے تو ملک میں سرمایہ مختلف شعبوں بشمول سونا، کریپٹو کرنسی اور سرمایہ کاری کے دیگر ذرائع سے نکل کر رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ سیکٹر میں منتقل ہوسکتا ہے، تجزیہ کار ایس ملک نے کہا کہ اس سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔
رئیل اسٹیٹ تجزیہ کار نے تجویز دی کہ پرانے اور پہلے سے ظاہر کیے گئے اثاثوں پر ٹیکس کی شرح کو کم کیا جائے تاکہ لوگ اپنے اثاثے بیچ کر معیشت کے پیداواری شعبوں میں سرمایہ لگا سکیں۔
رئیل اسٹیٹ کے ماہر نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کو دنیا بھر میں معاشی ترقی کا ایک اہم محرک سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے درجنوں دیگر صنعتیں وابستہ ہیں۔
ان کے مطابق تعمیراتی شعبے کی ترقی سے تقریباً 45 سے 55 صنعتوں کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے جن میں سیمنٹ، سیمنٹ، ٹائلز، برقی آلات، پینٹ، لکڑی، فرنیچر اور ٹرانسپورٹ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ہاؤسنگ فنانس، کریڈٹ پروویژن اور ٹیکسوں میں حقیقی ریلیف فراہم کرے تو اس سے 4 فیصد معاشی ترقی کی شرح حاصل کرنے میں خاطر خواہ مدد مل سکتی ہے۔
ایس ملک نے خبردار کیا کہ اگر ایک طرف کچھ ٹیکس ختم کر کے دوسری طرف نئے ٹیکس لگائے گئے تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ ان کے بقول حکومت کو واضح اور مستقل پالیسی اپنانی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اگر رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ کے شعبوں کو مکمل اور موثر ریلیف دیا جائے تو ملک میں وہی معاشی سرگرمی پیدا ہوسکتی ہے جو 2019 اور 2020 کے دوران دیکھی گئی تھی جس سے روزگار، سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
اس حوالے سے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تعمیرات کا شعبہ پاکستان کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر بجٹ میں دی گئی مراعات کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے تو نہ صرف حکومت کی ٹیکس آمدن میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ سرمایہ کاری، روزگار اور مجموعی معاشی ترقی کی رفتار بھی تیز ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے پالیسیوں کا تسلسل اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی ضروری ہو گی۔
مزید پڑھیں:عمران خان کی رہائی کا معاملہ، پی ٹی آئی کا اہم اعلان سامنے آگیا


