اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں فی یونٹ 82 پیسے اضافے کی درخواست جمع کرا دی ہے۔ درخواست منظور ہونے کی صورت میں کراچی سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔
یہ درخواست مئی 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دائر کی گئی ہے۔ نیپرا اس درخواست پر آئندہ سماعت کے دوران بجلی کی پیداواری لاگت، ایندھن کے استعمال، فراہم کیے گئے اعداد و شمار اور صارفین پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لے گی، جس کے بعد حتمی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔
سی پی پی اے کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 12 ارب 63 کروڑ سے زائد یونٹس بجلی پیدا کی گئی۔ اس عرصے میں بجلی کی اوسط فیول لاگت 9 روپے 25 پیسے فی یونٹ رہی، جبکہ تخمینہ 8 روپے 43 پیسے فی یونٹ لگایا گیا تھا۔ پیداواری لاگت میں اسی فرق کی بنیاد پر صارفین سے اضافی وصولی کی درخواست کی گئی ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق مئی میں مجموعی بجلی پیداوار کا 33.27 فیصد پانی، 11.66 فیصد مقامی کوئلے، 13.54 فیصد درآمدی کوئلے، 8.31 فیصد مقامی گیس اور 0.16 فیصد فرنس آئل سے حاصل کیا گیا۔
اگر نیپرا نے درخواست منظور کر لی تو بجلی کی قیمت میں اضافہ کے باعث صارفین پر تقریباً 12 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے، جبکہ یہ رقم آئندہ بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں وصول کیے جانے کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل کا حتمی فیصلہ نیپرا کی سماعت اور دستیاب اعداد و شمار کے مکمل جائزے کے بعد سامنے آئے گا۔


