Search
Close this search box.
جمعرات ,02 جولائی ,2026ء

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا انٹرویو اچانک بند ہونے کی اصل وجہ سامنے آگئی

تہران: ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر انٹرویو اچانک بند ہونے کے واقعے نے ایران میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا پہلے سے ریکارڈ شدہ انٹرویو دورانِ نشریات اچانک روک دیا، جس پر پارلیمنٹ کی جانب سے احتجاج کیا گیا جبکہ سوشل میڈیا پر سنسرشپ سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں۔

رپورٹس کے مطابق انٹرویو ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے صدا و سیما (IRIB) پر نشر کیا جا رہا تھا۔ پارلیمنٹ کے میڈیا سینٹر نے بتایا کہ انٹرویو نشریات سے تقریباً دو گھنٹے قبل سرکاری ٹی وی کے حوالے کر دیا گیا تھا، اس لیے اگر کسی حصے کو نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تو پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔

ذرائع کے مطابق انٹرویو اس وقت اچانک منقطع ہوا جب محمد باقر قالیباف بیرونِ ملک موجود ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی واپسی کے طریقہ کار پر گفتگو کر رہے تھے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گفتگو اچانک رک جاتی ہے، چند لمحوں کے لیے اسکرین سیاہ ہو جاتی ہے اور بعد ازاں دیگر پروگرام نشر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

پارلیمانی میڈیا سینٹر کے مطابق نشر نہ کیے گئے حصوں میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنے، ایران کے منجمد اثاثے، جنگ کے بعد تعمیرِ نو، مالی وسائل، آبنائے ہرمز اور امریکا سے مذاکرات جیسے اہم موضوعات شامل تھے، جس کے باعث سوشل میڈیا پر سنسرشپ سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔

سرکاری ٹی وی کی وضاحت

دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے سنسرشپ کے تمام تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انٹرویو کو پہلے ہی دو الگ اقساط میں نشر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

ادارے کے مطابق پہلی قسط کے اختتام پر اسکرین پر چلنے والی ٹکر میں واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ انٹرویو کا دوسرا حصہ بعد میں نشر کیا جائے گا، اس لیے اسے سنسرشپ قرار دینا درست نہیں۔

اس واقعے کے بعد ایران میں سرکاری نشریاتی ادارے کے فیصلے اور حساس قومی معاملات پر معلومات کی فراہمی کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں