لاہور: لاہور سکول چھت گرنے کا واقعہ ایک بار پھر شہریوں کے لیے صدمے کا باعث بن گیا۔ کاہنہ ٹیوشن سنٹر سانحے کے چند روز بعد باغبانپورہ کے ایک نجی سکول میں زیر تعمیر عمارت کی چھت گرنے سے 10 سالہ طالب علم جاں بحق جبکہ 4 تعمیراتی مزدور شدید زخمی ہو گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکال کر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے 10 سالہ طالب علم ابوبکر کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کر دی، جبکہ زخمی مزدوروں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب سکول کی عمارت میں توسیعی تعمیراتی کام جاری تھا۔ اچانک چھت منہدم ہوگئی اور بھاری ملبہ نیچے آ گرا۔ اس دوران سکول میں سمر کیمپ بھی جاری تھا، جہاں متعدد بچے موجود تھے۔
خوش قسمتی سے سمر کیمپ میں شریک دیگر تمام بچے محفوظ رہے، جس کے باعث ایک بڑے سانحے سے بچاؤ ممکن ہوا۔ تاہم اس افسوسناک واقعے نے تعلیمی اداروں میں تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران حفاظتی انتظامات پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کاہنہ سانحے کے بعد ایک اور واقعہ
یہ حادثہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل لاہور کے علاقے کاہنہ میں واقع ایک ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔ تحقیقات کے مطابق اس حادثے کے وقت بھی چھت پر مرمت اور تعمیراتی کام جاری تھا، جبکہ اضافی وزن کے باعث کمزور ڈھانچہ زمین بوس ہوگیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ باغبانپورہ کے تازہ واقعے کی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں تاکہ چھت گرنے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین کیا جا سکے۔
حفاظتی اقدامات سخت کرنے کا مطالبہ
مختصر عرصے میں تعلیمی اداروں میں پیش آنے والے دو بڑے حادثات کے بعد والدین اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سکولوں اور ٹیوشن مراکز میں تعمیراتی کام کے دوران سخت حفاظتی اصول نافذ کیے جائیں، باقاعدہ معائنہ کیا جائے اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔


