اسلام آباد (رضوان عباسی): ملک میں مہنگائی کی نئی لہر کے دوران آٹے کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث لاکھوں خاندانوں کے ماہانہ بجٹ پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔ روزنامہ اوصاف اور اے بی این نیوز کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق ملک کے متعدد بڑے شہروں میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ کراچی کے شہری سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔
دستاویزات کے مطابق ملک میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2,900 روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اس سے قبل یہی تھیلا 2,800 روپے میں فروخت ہو رہا تھا، جو بنیادی غذائی شے کی قیمت میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
حاصل شدہ اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت سب سے زیادہ 2,900 روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسلام آباد، کوئٹہ اور خضدار میں یہی تھیلا 2,800 روپے، جبکہ پشاور میں 2,750 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔
اسی طرح راولپنڈی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2,747 روپے، حیدرآباد میں 2,740 روپے اور بنوں میں 2,700 روپے میں دستیاب ہے۔ سکھر میں اس کی قیمت 2,560 روپے جبکہ لاڑکانہ میں 2,500 روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔
پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی آٹے کی قیمت میں نمایاں فرق دیکھنے میں آیا۔ ملتان میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2,420 روپے، گوجرانوالہ اور بہاولپور میں 2,400 روپے، سیالکوٹ میں 2,333 روپے، فیصل آباد میں 2,300 روپے، لاہور میں 2,250 روپے جبکہ سرگودھا میں 2,240 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آٹے سمیت دیگر ضروری اشیائے خورونوش، بجلی، گیس اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کم اور متوسط آمدن والے طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مسلسل مہنگائی کے باعث گھریلو بجٹ شدید متاثر ہو رہا ہے اور بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قیمت سمیت ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔