قاہرہ: مصر میں قدیم شہر دریافت ہونے سے ماہرین آثار قدیمہ کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ملک کے مغربی علاقے میں واقع ایک نخلستان سے تقریباً 1700 سال پرانے شہر کے آثار ملے ہیں، جو بازنطینی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس دریافت کو قدیم تہذیب، شہری منصوبہ بندی اور اس دور کی معاشرتی زندگی کو سمجھنے میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مصری وزارتِ سیاحت و آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ تاریخی شہر صوبہ نیو ویلی کے صحرا میں دریافت ہوا، جہاں رہائشی عمارتوں، مذہبی مراکز، ایک گرجا گھر اور دیگر اہم تعمیرات کے آثار برآمد ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقام سے ملنے والی معلومات بازنطینی دور کی روزمرہ زندگی، تجارت اور شہری ترقی کے بارے میں نئی تحقیق کا راستہ ہموار کریں گی۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق شہر کو منظم انداز میں تعمیر کیا گیا تھا، جہاں مختلف علاقوں کو کشادہ شاہراہوں کے ذریعے آپس میں جوڑا گیا تھا۔ شہر میں عوامی مقامات، چوراہے، ایک مرکزی گرجا گھر اور دو واچ ٹاورز بھی دریافت ہوئے ہیں، جنہیں غالباً دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
کھدائی کے دوران موٹی حفاظتی دیواروں والی ایک بڑی عمارت بھی ملی، جبکہ متعدد گھروں میں استقبالیہ ہال، محرابی چھتیں، باورچی خانے اور چولہوں کے آثار سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ کانسی کے سکے، مٹی کے برتن، اناج پیسنے کے اوزار اور روزمرہ استعمال کی کئی دیگر اشیا بھی برآمد ہوئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق دریافت ہونے والے سکوں پر بازنطینی شہنشاہوں کی تصاویر، لاطینی زبان میں تحریریں اور مسیحی علامات نقش ہیں۔ بعض سونے کے سکوں کا تعلق رومی شہنشاہ قسطنطینوس دوم کے دورِ حکومت (337ء تا 361ء) سے بتایا گیا ہے، جس سے شہر کی تاریخی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ادھر آثارِ قدیمہ کی ایک الگ مہم کے دوران اسکندریہ کے مغرب میں تقریباً 62 میل دور 18 تاریخی مقبرے بھی دریافت کیے گئے ہیں۔ ان میں 11 مقبرے چٹانوں کو تراش کر جبکہ 7 چونے کے پتھر سے تعمیر کیے گئے تھے۔ ان مقبروں سے مٹی کے گھڑے، چراغ، پلیٹیں اور چونے کے پتھر سے تیار کیے گئے برتن بھی برآمد ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصر میں قدیم شہر دریافت ہونے سے نہ صرف بازنطینی دور کی تہذیب کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوں گی بلکہ مستقبل میں مزید تاریخی انکشافات کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔

