ہیما مالنی نے اپنے آنجہانی شوہر اور لیجنڈری اداکار دھرمیندر کے انتقال سے قبل اہل خانہ کو دیے گئے آخری پیغام کے حوالے سے ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔ ہیما مالنی نے بتایا کہ دھرمیندر اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی خاندان کی یکجہتی کے لیے فکر مند تھے اور انہوں نے سب کو مل کر رہنے کی تلقین کی تھی۔
ایک تازہ انٹرویو میں 78 سالہ اداکارہ نے ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ دھرمیندر کا آخری پیغام صرف محبت اور اتحاد پر مبنی تھا۔ انہوں نے اپنے بچوں اور پورے خاندان سے کہا تھا کہ حالات جیسے بھی ہوں، سب نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے اور کبھی الگ نہیں ہونا۔ ہیما مالنی کا کہنا تھا کہ دھرمیندر کے لیے ان کا خاندان ہمیشہ پہلی ترجیح رہا۔
انٹرویو کے دوران انہوں نے اپنے سوتیلے بیٹوں سنی دیول اور بوبی دیول کے ساتھ تعلقات پر بھی کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ سنی اور بوبی دونوں بہت اچھے انسان اور ذمہ دار بیٹے ہیں، اور ہمارے درمیان ایک مضبوط اور احترام کا رشتہ قائم ہے۔ ہیما مالنی نے واضح کیا کہ وہ اپنے گھریلو معاملات کو میڈیا کی نظروں سے دور رکھنا پسند کرتی ہیں کیونکہ دھرمیندر بھی اپنی ذاتی زندگی کو عوامی بحث کا حصہ بنانا پسند نہیں کرتے تھے۔
واضح رہے کہ ہندی سینما کے باصلاحیت اور مقبول ترین اداکار دھرمیندر گزشتہ برس 24 نومبر کو 89 برس کی عمر میں اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے تھے۔ ہیما مالنی اور دھرمیندر کی پہلی ملاقات 1960 کی دہائی میں فلمی سیٹ پر ہوئی تھی، جہاں سے شروع ہونے والا یہ سفر 1980 میں شادی کے بندھن میں بدل گیا۔ دونوں نے شعلے، سیتا اور گیتا اور ڈریم گرل جیسی لازوال فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔ شادی کے وقت دھرمیندر پہلے سے شادی شدہ تھے اور ان کے چار بچے تھے، جبکہ ہیما مالنی سے ان کی دو بیٹیاں ایشا اور آہنا دیول ہیں۔



