Search
Close this search box.
بدھ ,15 جولائی ,2026ء

عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، امریکا ایران کشیدگی کے اثرات نمایاں

لندن: عالمی تیل کی قیمتیں ایک بار پھر نمایاں اضافے کے ساتھ اوپر چلی گئی ہیں، جس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال قرار دی جا رہی ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی میں سرمایہ کاروں کے خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

مارکیٹ رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر تقریباً 87 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی بینچ مارک ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی 80 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ سرمایہ کار ممکنہ سپلائی میں رکاوٹ کے خدشے کے پیش نظر محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ کاروباری روز برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 سے 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد برینٹ خام تیل گزشتہ ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا آبنائے ہرمز سمیت اہم بحری راستوں سے تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو عالمی تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، ایندھن کی قیمتوں اور درآمدی اخراجات پر بھی مرتب ہوں گے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دنیا بھر میں مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے، جبکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے توانائی کے اخراجات میں اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں