اسلام آباد: فارن آفس دستاویزات کی تصدیق کے موجودہ نظام کو مزید مؤثر اور جدید بنانے کی تجویز سامنے آگئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط ارسال کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے تصدیقی نظام میں اصلاحات لانے اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا ہے۔
آغا رفیع اللہ نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ فارن آفس کے باہر روزانہ بڑی تعداد میں شہری دستاویزات کی تصدیق کے لیے جمع ہوتے ہیں، جس کے باعث انہیں گھنٹوں انتظار اور مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق دور دراز شہروں سے آنے والے افراد کو نہ صرف اضافی سفری اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں بلکہ وقت کا بھی کافی ضیاع ہوتا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ فارن آفس دستاویزات کی تصدیق کے نظام کو آؤٹ سورس کرنے پر غور کیا جائے تاکہ شہریوں کو تیز، شفاف اور آسان خدمات فراہم کی جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام محدود وسائل کے باعث بڑھتی ہوئی درخواستوں کا بوجھ مؤثر انداز میں نہیں سنبھال پا رہا، اس لیے جدید انتظامی طریقہ کار اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔
خط میں یہ سفارش بھی کی گئی کہ ملک بھر میں سہولت مراکز قائم کیے جائیں تاکہ عوام کو صرف تصدیقی عمل کے لیے اسلام آباد کا سفر نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ درخواستوں کی وصولی، فیس کی ادائیگی اور دستاویزات کی تصدیق کا پورا عمل آن لائن منتقل کیا جائے جبکہ کیو آر کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل تصدیق کی سہولت بھی متعارف کرائی جائے۔
رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات سے وزارت خارجہ کے تصدیقی نظام میں شفافیت اور رفتار دونوں بہتر ہوں گی۔ اس کے علاوہ شہریوں کے اخراجات میں کمی آئے گی اور سرکاری خدمات تک رسائی مزید آسان بنائی جا سکے گی۔
انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت خارجہ کو فوری طور پر اس حوالے سے عملی اقدامات کی ہدایت دی جائے تاکہ جدید، ڈیجیٹل اور عوام دوست نظام قائم کیا جا سکے۔


