تہران: ایران امریکا معاہدہ ایک بار پھر شدید تنازع کا شکار ہوگیا ہے۔ ایرانی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے مبینہ معاہدہ شکنی کے بعد تہران نے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں پر عمل درآمد عارضی طور پر روک دیا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ اور تکنیکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکا نے اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں کی پاسداری نہیں کی۔ ان کے مطابق جب ایک فریق اپنے وعدے پورے نہ کرے تو دوسرے فریق کے لیے بھی معاہدے پر عمل جاری رکھنا ممکن نہیں رہتا۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکا نے معاہدے کے بنیادی نکات پر عمل درآمد معطل کر رکھا ہے، اسی لیے ایران نے بھی اپنی ذمہ داریوں کو فی الحال روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ملک کی سلامتی اور دفاع اولین ترجیح ہے۔
ایران امریکا معاہدہ سے متعلق ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی سخت مؤقف اختیار کیا۔ تہران کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مطابق اس اہم سمندری گزرگاہ کے انتظام سے متعلق فیصلے عمان اور خطے کے دیگر ممالک سے مشاورت کے ذریعے ہونے تھے، تاہم امریکا اس اصول کو نظر انداز کرتے ہوئے یکطرفہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ میں آبنائے ہرمز کے انتظام کا واضح طریقہ کار درج ہے، لیکن امریکا اس پر عمل نہیں کر رہا۔
دوسری جانب ایران کی اعلیٰ قیادت نے بھی امریکا پر سخت تنقید کی ہے۔ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا کہ واشنگٹن نے بارہا معاہدے کی خلاف ورزی کی، جس سے یہ ثابت ہوگیا کہ امریکی یقین دہانیوں پر بھروسا کرنا مشکل ہے۔ ان کے مطابق مسلسل وعدہ خلافیوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مزید متاثر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ پیش رفت سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ مستقبل میں ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔



