اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی اینڈ کنٹرول اتھارٹی میں مبینہ مالی و انتظامی بے ضابطگیوں پر وفاقی حکومت کی کارروائی
وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی نے پی ایس کیو سی اے ایکٹ 1996 کے تحت ڈی جی کا کنٹریکٹ ختم کرنے اور محکمانہ کارروائی کے آغاز کی وفاقی کابینہ سے بعد از منظوری طلب کر لی۔
وزیراعظم نے ڈائریکٹر جنرل پی ایس کیو سی اے کی فوری برطرفی کا حکم دے دیا۔
وزیراعظم نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کی ہدایات پرڈی جی پی ایس کیو سی اے کو برطرف کرنے کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم نے انکوائری روپوٹ کی روشنی میں باقی افسران و ملازمین سے غیر قانونی مراعات کی ریکوری کا حکم بھی دیا۔
انکوائری میں ڈی جی پی ایس کیو سی اے کے خلاف الزامات ثابت ہوئے تھے۔
پی ایس کیو سی اے میں اصلاحات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت۔
وزارتِ سائنس نے 13 جولائی کو ڈی جی پی ایس کیو سی اے کا کنٹریکٹ ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
کنٹریکٹ ختم کرنے کرنے پر ڈی جی پی ایس کیو سی اے نے عدالت سے رجوع کیا تھا
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16 جولائی کو ڈی جی پی ایس کیو سی اے کی بحالی کا حکم دے دیا
اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈی جی پی ایس کیو سی اے کیس پر سماعت 30 جولائی کو ہوگی۔


