وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے، سپر ٹیکس، ونڈ فال ٹیکس پائیدار نہیں، مہنگائی کم ہو رہی ہے، امید ہے پالیسی ریٹ میں بھی کمی آئے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ توانائی کی چوری اور لیکیج کو روکے بغیر استحکام نہیں آئے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ صنعت کا شعبہ قومی پیداوار میں 22 فیصد، ٹیکس کا 56 فیصد حصہ دیتا ہے، ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے، تیسری سہ ماہی میں زرعی شعبے کی ترقی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، صنعتی ترقی توانائی سے منسلک ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل ترقی کے مرحلے میں ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ رواں سال ریونیو کا ہدف 9400 ارب روپے ہے، عدالتوں میں 1700 ارب کے کیسز ہیں، اس میں سے صرف آدھی رقم ملنی ہے، اندازہ ہے کہ 3000 ارب کی لیکیجز ہیں، اتنا ہی آدھا وصول کیا جائے۔ .
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ کم اور ٹیکس ادا نہ کرنے والوں تک آمدن کو 12 ہزار ارب تک لے جایا جائے گا، نجکاری کی پائپ لائن بنا رہے ہیں، ابتدائی طور پر خسارے میں چلنے والے اداروں پر توجہ دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ لاگت کم کرنے کی ضرورت ہے، پی ایس ڈی پی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی طرف بڑھنا ہے، ایف بی آر کی تنظیم نو، عمل، لوگوں اور ٹیکنالوجی پر توجہ دینا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر شمشاد اختر مل کر کام کر رہے ہیں، پالیسی ریٹ اور ایکسچینج ریٹ سٹیٹ بینک کی صوابدید ہے، مہنگائی کم ہو رہی ہے، امید ہے پالیسی ریٹ میں بھی کمی آئے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے حجم پر بات نہیں کی گئی، امید ہے کہ نئے پروگرام پر عملے کی سطح پر معاہدہ رواں مالی سال کے آخر تک ہو جائے گا۔

