لاہور(نیوزڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کو دھمکی آمیز ریمارکس اور نامعلوم پاؤڈر والے خطوط موصول ہونے کے بعد، یہ کہانی جاری ہے کیونکہ بدھ کو لاہور ہائی کورٹ (LHC) کے تین ججوں کو پھر سے دھمکی آمیز خطوط بھیجے گئے تھے۔
لاہور ہائیکورٹ کے تین ججز، سینئر پیوسین جج جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس عالیہ نیلم کو دھمکی آمیز ریمارکس والا خط موصول ہوا۔لاہور پولیس نے لاہور ہائی کورٹ کی سیکیورٹی سخت کردی ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کوپاؤڈر بھرا مشکوک خط موصول
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے دو فاضل ججز کو بھی مشکوک خطوط موصول ہوگئی، ذرائع نے بتایا کہ عدالتی عملے کی جانب سے خطوط کو کھولا نہیں گیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ مشکوک خطوط جسٹس شاہد بلال حسن اورجسٹس عالیہ نیلم نام سے موصول ہوئے ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز علی ناصر سمیت اعلیٰ پولیس افسران ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں ، ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے دو خطوط قبضےمیں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔
گزشہ روز اسلام آبادہائیکورٹ کے8ججز کو مبینہ اینتھریکس کےخط موصول ہوئے تھے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے تصدیق کی تھی کہ ان سمیت تمام آٹھ ججوں کوخط ملے، ایک جج کے عملے نے خط کھولا تواس میں پاؤڈر تھا اور خط کھولنے والے عملے نےآنکھوں میں سوزش کی شکایت کی ہے۔
چیف جسٹس عامرفاروق نے بتایا تھا کہ خطوں میں اینتھراکس کا بتایا گیاہے، بنیادی طور پر ہائیکورٹ کو تھریٹ کیا گیا ہے۔
عدالتی ذرائع کا کہنا تھا کہ خط میں ڈرانے دھمکانے والا نشان بھی موجود ہے، خط کسی خاتون اپناایڈریس لکھے بغیرججوں کو ارسال کیے، خط ریشم اہلیہ وقار حسین کی جانب سےبھیجے گئے۔




