اسلام آباد(ویب ڈیسک)اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پنڈ دادن خان تا جہلم ترقیاتی منصوبے میں مالی فراڈ سے متعلق کیس میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے ضمانتی مچلکے جمع نہ ہوسکے، عدالت نے ان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 15 اپریل تک توسیع کردی۔
نجی ٹی وی کے مطابق مقدمے کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی، فواد چوہدری کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔
جج ناصر جاوید نے فواد چوہدری سے استفسار کیا کہ ضمانت ہو گئی ہے آپ کی؟ سابق وزیر نے بتایا کہ جی ضمانت ہو گئی ہے۔
جج ناصر جاوید رانا نے مزید دریافت کیا کہ مچلکے جمع کروائے ہیں؟ کہاں ہائی کورٹ میں کروانے ہیں یا احتساب عدالت میں؟ فواد چوہدری نے جواب دیا کہ ابھی تک آرڈر کا انتظار ہے، تحریری آرڈر ملے گا تو ہی مچلکے جمع کروائیں گے۔
جج ناصر جاوید رانا نے مسکراتے ہوئے فواد چوہدری سے مکالمہ کیا کہ مچلکے جمع کروائیں اور باہر آئیں، سابق وزیر نے جواب دیا کہ باہر تو خیر کیا ہی آنا، وہ آپ کو پتا ہے۔
جج ناصر جاوید نے ریمارکس دیے کہ کیوں اور بھی کوئی کیس ہے جس میں ضمانت نہیں ہوئی؟ فواد چوہدری نے کہا کہ کیس بناتے کون سا وقت لگتا ہے؟
مزیدپڑھیں :لوگ پوچھتے ہیں فہد مصطفیٰ بھی روزے رکھتے ہیں؟ سارہ چوہدری
فواد چوہدری نے استدعا کی کہ ان کے وکیل قیصر امام کے آنے تک انتظار کر لیں جس پر عدالت نے سماعت میں وقفہ کردیا۔
وقفے کے بعد عدالت نے فواد چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں 15 اپریل تک توسیع کر دی۔
واضح رہے کہ 1 اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے جہلم پنڈ دادن خان پروجیکٹ میں خوردبُرد کے کیس میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی اور ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔
18 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے جہلم میں تعمیراتی منصوبوں میں خوردبُرد کے کیس میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی درخواست ضمانت پر قومی احتساب بیورو (نیب) کو نوٹس جاری کر کے آئندہ ہفتے تک جواب طلب کر لیا تھا۔
پسِ منظر
واضح رہے کہ 4 نومبر کو فواد چوہدری کو اسلام آباد سے گرفتار کرلیا گیا تھا، رہنما استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) فواد چوہدری کے بھائی فیصل چوہدری نے ’ڈان نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔
5 نومبر کو سابق وفاقی وزیر کو ڈیوٹی مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیا گیا، فواد چوہدری کو ظہیر نامی شخص کی جانب سے درج ایف آئی آر میں گرفتار کیا گیا تھا، ایف آئی آر عدالت میں پڑھ کر سنائی گئی۔
10 دسمبر کو فواد چوہدری کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔
11 دسمبر کو راولپنڈی کی اینٹی کرپشن عدالت نے 35 لاکھ روپے کے بدعنوانی کیس میں فواد چوہدری کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
15 دسمبر راولپنڈی کی اینٹی کرپشن عدالت نے 35 لاکھ روپے کے بدعنوانی کیس میں سابق وفاقی فواد چوہدری کا مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا مسترد کردی تھی۔
16 دسمبر کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے جہلم پنڈدادن روڈ کیس میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے جبکہ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے وارنٹ تعمیل کروانے کی اجازت دے دی تھی۔
20 دسمبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پنڈ دادن خان، جہلم دو رویہ سڑک کی تعمیر، زمین کی خریداری میں خرد برد سے متعلق کیس میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں نیب کی تحویل میں دے دیا تھا۔
بعدازاں 30 دسمبر کو عدالت نے پنڈ دادن خان، جہلم دو رویہ سڑک کی تعمیر، زمین کی خریداری میں خرد برد سے متعلق کیس میں سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما فواد چوہدری کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا تھا۔
5 جنوری کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جہلم کے تعمیراتی منصوبوں میں خورد برد کیس میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا، اسی طرح 9 اور 12 جنوری کو بھی 3، 3 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا تھا۔
18 جنوری کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پنڈ دادن خان تا جہلم ترقیاتی منصوبے میں مالی فراڈ سے متعلق کیس میں فواد چوہدری کو جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھیج دیا اور ان کی بی کلاس کی سہولیات کی درخواست بھی منظور کر لی تھی۔
7 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری سے جیل میں اہل خانہ کی ملاقات کے لیے جمعرات کا دن مختص کردیا تھا۔



