وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان جب بھی ترقی کی جانب بڑھتا ہے تو چھپے ہاتھ رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ آج ہم دنیا بھر میں چند بلین ڈالر کی بھیک مانگ رہے ہیں۔
دفتر خارجہ میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیر خزانہ کی حیثیت سے میری دعوت پر دنیا بھر سے نمائندے اسلام آباد آئے۔ ہم نے پاکستان کی ترقی کے لیے پوری دنیا سے بات کی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کو کئی سال پیچھے دھکیلا گیا۔ آج ہم دنیا بھر میں چند بلین ڈالر کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان بہت جلد جی 20 کا حصہ بن جائے گا۔ وزیراعظم کا وژن واضح ہے کہ ملک کو جلد بحران سے نکالا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ 28 سے 29 اپریل تک ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے لیے وزیراعظم کے ساتھ ریاض جائیں گے۔ورلڈ اکنامک فورم کو بتانا ہے کہ پاکستان کے پاس دنیا کو دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔ پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کر دیا گیا ہے۔ اب دوبارہ کوشش کر رہے ہیں۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارت کھولنے پر تاجر برادری سے بات چیت شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کی وجہ سے علاقائی امن کو خطرہ ہے۔ جنگ بندی کے لیے سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔




