سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا کہنا ہے کہ فیض آباد دھرنے کے دوران سابق ڈی جی سی فیض حامد اور دو افسران نے ان سے ملاقات کی اور مستعفی ہونے کو کہا۔
زاہد حامد نے فیض آباد دھرنا کمیشن کو بتایا کہ 26 نومبر 2017 کی شام آئی ایس آئی کے جونیئر افسران میرا استعفیٰ مانگنے لاہور میں میرے گھر آئے۔ ? فیض حمید کا خیال تھا کہ اگر وہ کچھ عرصے کے لیے چھٹی پر چلے گئے تو ٹی ایل پی مطمئن ہو جائے گی۔
مزید پڑھیں: صرف 11 فیصد پاکستانی ٹیکس چوری کے حامی ، گیلپ سروے جاری
سابق وزیر کے مطابق انہوں نے فیض حمید کوکہا وزیراعظم کو پیشکش کرچکا مگر وہ مانے نہیں، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نےکہا تھا حکومت توڑیں گے وزیرکو استعفیٰ نہیں دینے دینگے۔زاہد حامد نے بتایاکہ جب پولیس ایکشن ناکام ہوا تو احساس ہوا واحد متبادل فوج کی مداخلت ہوگی جواچھی نہیں ہوگی۔




