وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ 2024-25 میں نان فائلرز کی جانب سے بینکوں سے کیش نکالنے پر ایڈوانس ٹیکس بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے آئندہ سال کے بجٹ میں نان فائلرز کے لیے کیش نکالنے پر ایڈوانس ٹیکس 0.6 فیصد سے بڑھا کر 0.9 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔حکومت نے سب سے پہلے مالی سال 2023-24 کے بجٹ میں نان فائلرز پر 0.6 فیصد ایڈوانس ٹیکس عائد کیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پارلیمنٹ اس ٹیکس تجویز کو منظور کر لیتی ہے تو ایف بی آر نان فائلرز سے سالانہ 15 بلین ریونیو سے زائد وصول کر سکتا ہے۔۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ایف بی آر نے 850cc یا اس سے زیادہ انجن کی صلاحیت رکھنے والی ہر قسم کی گاڑیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس بڑھانے کی تجویز بھی دی ہے۔
مزید پڑھیں: اختلافات میں اضافہ ، گور نرکے پی کی انیکسی خالی کروا کر سامان باہر پھینکوا دیا گیا
مزید یہ کہ حکومت نے ان افراد کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جنہوں نے خود کو تاجر دوست سکیم کے لیے رجسٹر نہیں کرایا۔ ایف بی آر نے انہیں نوٹس بھیجنے کی تجویز دی ہے۔تاجیر دوست اسکیم ایک رضاکارانہ ٹیکس تعمیل اسکیم ہے جسے چھوٹے کاروباروں کے لیے ٹیکس جمع کرنے کو آسان بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ایف بی آر نے یہ تجاویز آئی ایم ایف کے سامنے پیش کر دی ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تجاویز کو حتمی منظوری کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف سے شیئر کیا جائے گا۔
اس سے قبل یہ بات سامنے آئی تھی کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاور سیکٹر پر 150 ارب روپے کے اضافی بوجھ کا حوالہ دیتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے وزارت توانائی سے جولائی میں بجلی کے نرخ 5 روپے سے بڑھا کر 7 روپے فی یونٹ کرنے کا کہا ہے۔
آئی ایم ایف نے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور رواں مالی سال کے اختتام تک پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2500 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وزارت توانائی گردشی قرضے پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔
آئی ایم ایف نے وزارت توانائی سے اگلے مالی سال میں بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے کا منصوبہ بھی شیئر کرنے کو کہا ہے۔ مشن فی الحال اس معاملے پر مزید بات کرنے کے لیے وزارت توانائی کے حکام سے بات چیت کر رہا ہے۔


