لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو ججز کی تعیناتی کے لیے 15 دن کا وقت دے دیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ملک شہزاد احمد نے پنجاب کی خصوصی عدالتوں میں ججز کی تقرری سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے ججز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن عدالت میں جمع کرایا۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحاق نے کہا کہ پنجاب حکومت نے پنجاب کی خصوصی عدالتوں میں ججز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے مثبت کردار کو سراہا، انہوں نے کہا کہ سب ہمارے لیے قابل احترام ہیں، آپ نے اچھا رویہ دکھایا۔
مزید پڑھیں: میرے پالتو کتوں کو بھی اٹھا لیا گیا ، انکا قصور کیا ؟ پی ٹی آئی رہنما حماد اظہرکا انکشاف
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ پنجاب کی تمام انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں ججز تعینات کیے گئے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ انسداد بدعنوانی کے 2 اور سروس ٹربیونل اور کنزیومر کورٹ میں ایک، ایک جج تعینات کیا گیا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحاق نے کہا کہ اگر کوئی تقرری کرنی ہے تو اسے جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔ سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے ججز کی تقرری کے لیے مزید مہلت مانگ لی، وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ ججز کی تقرری کی منظوری وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دی جائے گی۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ اب پنجاب حکومت نے ججز کی تقرری کر دی ہے، وفاقی حکومت نے مزید وقت مانگا ہے، کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے بھی ججز کی تقرری کی جا سکتی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو ججز کی تعیناتی کے لیے 15 دن کا وقت دیتے ہوئے کارروائی ملتوی کر دی۔
