اسلام آباد – کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی سیکرٹریٹ کو سیل کر دیا اور احاطے میں موجود “غیر قانونی ڈھانچے” کو مسمار کر دیا۔
تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ سی ڈی اے کی ایک ٹیم نے، جس کی مدد کیلئےپولیس کی بھاری نفری موجود تھی، نے جمعرات کو دیر گئے پی ٹی آئی ہیڈ کوارٹر میں تجاوزات اور غیر مجاز تعمیرات کو ہٹانے کے لیے آپریشن کیا۔ سی ڈی اے حکام نے عندیہ دیا کہ بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اضافی فلور تعمیر کیا گیا ہے۔
آپریشن کے دوران پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹریٹ کا کچھ حصہ مسمار کر دیا گیا۔ ہیڈ کوارٹر سیل کیے جانے کی خبر تیزی سے پھیل گئی، جس سے پی ٹی آئی کے رہنما بشمول پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
سی ڈی اے حکام نے بتایا کہ سیکٹر G-8/4 میں واقع پلاٹ پر تجاوزات کی گئی تھیں اور غیر مجاز تعمیرات کی گئی تھیں۔اصل میں یہ پلاٹ سرتاج علی نامی ایک شخص کو الاٹ کیا گیا تھا اور پی ٹی آئی نے مبینہ طور پر اس زمین پر قبضہ کر کے اس پر غیر قانونی تعمیرات کی تھیں۔
مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کو ججز کی تعیناتی کے لیے 15 دن کی مہلت
حکام نے نوٹ کیا کہ متعدد انتباہات اور نوٹسز کے باوجود، پلاٹ کے مالک نے متعدد خلاف ورزیاں کیں۔ پہلا نوٹس 19 نومبر 2020 کو جاری کیا گیا، اس کے بعد دوسرا 22 فروری 2021 کو جاری کیا گیا۔ خلاف ورزیوں پر توجہ نہ دینے کے بعد 14 جون 2022 کو حتمی وارننگ اور 4 ستمبر 2023 کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔
احکامات کی تعمیل نہ کرنے پر 10 مئی 2024 کو جائیداد کو سیل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ سی ڈی اے کے ترجمان نے کہا کہ شہر بھر میں تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مہم بلا تفریق جاری رہے گی۔
ایک متعلقہ پیش رفت میں پی ٹی آئی رہنما عامر مغل کو پارٹی دفتر پر چھاپے کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔بیرسٹر گوہر نے جائے وقوعہ پر موجود پارٹی کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کی۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ساتھ کھڑے عامر مغل کو پولیس نے اچانک گرفتار کیا، سفید گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئے۔انہوں نے سوال کیا کہ سی ڈی اے کا آپریشن اندھیرے کی آڑ میں کیوں ہوا۔ انہوں نے غزہ میں ہونے والے آپریشن کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح وہاں آپریشن کیا جاتا ہے اسی طرح کا آپریشن آج پی ٹی آئی کے خلاف کیا گیا۔
عمر ایوب نے کہا کہ اگر اعتراض تھا تو ہم سے رابطہ کر سکتے تھے اور ہمیں اپنی دستاویزات پیش کرنے کا وقت دے سکتے تھے۔ بحث تعمیری ماحول میں ہو سکتی تھی۔ لیکن نہیں، کیونکہ عمران خان پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور حقیقی آزادی کی بات کرتے ہیں، اس سے حکومت اور کئی افراد ناراض ہیں۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ وہ اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں اور اس معاملے کو قومی اسمبلی میں اٹھائیں گے۔
