اسلام آباد(ویبڈیسک) علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ان کی عمران خان سے ملاقات بہت اچھی رہی، اپنی ذات کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی زیادہ فکر پاکستان کی تھی، معاشی طور پر نیچے گر گیا ہے، سکیورٹی کے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔عوام کی مرضی کے خلاف جب حکمران مسلط کئے جائیں گے تو پھر وہ اپنے مفادات کا تحفظ نہیں کرسکتے، بانی پی ٹی آئی ’ فٹ ‘ لگ رہے تھے، پہلے ہم ملتے تھے تو تھکے تھکے ہوتے تھے اُس روز اُن کا ٹرائل تھا جب ہم ملے تو وہ بہت پرجوش، پر اعتماد تھے، اپنے راستے، اپنی منزل سے ناامید نہیں تھے، انہیں یقین ہے یہی راستہ عزت کا ، پاکستان کی نجات کا ہے وہ کہتے ہیں اگر وہ اس راستے میں شہید ہوجائیں گے تو قبول ہے۔
منگل کونجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ ناصر عباس نےکہاکہ عدت نکاح کیس پر بات کرتے ہوئے کہا یہ معاملہ انتہائی شرمناک ہے، آپ کہتے پاکستان میں قرآن و سنت سپریم ہے یہ تو قرآن و سنت کے خلاف ہے،تمام فقہ اسلام عدت کے مسئلے میں یہ کہتے ہیں کہ عورت جو بات کرے اس پر عمل کیا جائے گا، مگر یہاں اس کے برعکس ہے فیملی سسٹم کو تباہ کرنے کے مترادف ہے، لہذا یہ جو کام ہوا ہے غیراسلامی، غیرشرعی،غیر آئینی، غیر اخلاقی ہے، گھٹیا اور پست لوگوں کا کام ہے۔
علامہ ناصر عباس نے مزید کہا اُن لوگوں کو شرم آنی چاہیے یہ اللہ کے قانون کے خلاف ہے،سنت کے خلاف ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، ججز ایسے فیصلے کررہے جیسے کسی نے انہیں آرڈر دیا ہو آپ نے جلدی جلدی فیصلہ کرنا ہے، اس وقت ملکی عدلیہ کا بھی برا حال کردیا گیا ہے اس پر دباو ڈالا گیا ہے، کچھ پر پریشرریز کرکے اُن سے اپنی مرضی کے فیصلہ لئے گئے ہیں۔
مزیدپڑھیں :معروف اماراتی یوٹیوبر اہلیہ کو چھوڑنے کے بعد بھارتی اداکارہ کو دل دے بیٹھے؟
