اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی جرمنی کی وفاقی وزیر برائے اقتصادی تعاون و ترقی سوینجا شولزے کو وزیراعظم آفس میں ہینڈ بیگ لے جانے سے روک دیاگیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم آفس میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب جرمن وزیر برائے اقتصادی تعاون و ترقی سوینجا شولزے وفد کے ہمراہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے لئے پہنچیں۔
شلزے جرمن سفیر الفریڈ گراناس کے ساتھ اسلام آباد میں وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے باہر موجود تھیں تاہم اس دوران وفدسے کہاگیاکہ اسلحہ، سیل فون،اور بیگ اندر نہیں لے جاسکتے اور میڈیا کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہے ۔
اس وقت وفاقی وزیرشلزے حیران ہوکر رہ گئیں اورجرمن سفیر کی طرف مُڑ کردیکھا۔
”
اس موقع پر جرمن سفیر گراناس نے سیکورٹی گارڈز کوالوداع کہتے ہوئے وزیر کے ہمراہ واپسی کا راستہ لیا۔
یادرہے کہ صدور، چانسلرز اور وزراء کی کبھی تلاشی نہیں لی جاتی، ایکسرے مشین سے نہیں گزاراجاتا اور نہ ہی ان کا سامان یا ہینڈ بیگ کھولا جاتا ہے۔
شولز کے ہینڈ بیگ میں بنیادی طور پر سپلائی چین کے قانون کے بارے میں، افغانستان سے آنے والے مہاجرین کے بارے میں، پاکستان میں سرمایہ کاری کے بارے میں جرمن کاروباری اداروں کے خدشات کے بارے میں نوٹ شامل تھے۔
جیسے ہی شولزے اپنا ہینڈ بیگ لے کر سیڑھیوں سے نیچے اتریں ،سیکیورٹی گارڈز نے پیچھے سے آواز دی۔
محترمہ !معاف کیجئے گااوریوں معاملہ رفعہ دفعہ ہوگیا۔
وزیراعظم کی جرمن زبان میں گفتگو!
وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے جرمنی کی وفاقی وزیر برائے اقتصادی تعاون و ترقی محترمہ سوینجا شولزے سے وزیرِ اعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید بڑھانے کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس کے علاوہ ملاقات میں غزہ کی صورتحال اور یوکرین تنازع سمیت علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے وفاقی وزیر شلزے کا پاکستان میں خیرمقدم کیا اور پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے جرمنی کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے مابین باہمی طور پر مفید تجارتی اور اقتصادی تعلقات موجود ہیں۔
شہباز شریف نے پاکستان کی صنعتی ترقی میں جرمنی کے کردار کی تعریف بھی کی اور پاکستان جرمنی شراکت داری کو فروغ دینے کی بھرپور خواہش کا بھی اظہار کیا۔

