Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

ایس ایل آئی سی سمٹ 2024: انڈسٹری رہنماؤں کی قیادت میں اسٹیٹ لائف کی نئی ڈیجیٹل سروسز کا آغاز

کراچی (نیوزڈیسک ) اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان (SLIC) کے زیر اہتمام 22 اگست 2024 کو، SLIC سمٹ 2024 کا انعقاد ہوا۔

اس ہم موقع پر جدید ترین ڈیجیٹل سروسز اور کمیونیکیشن فریم ورک کے با ضابطہ آغاز کا اعلان کیا گیا۔

تقریب کا افتتاح وفاقی وزیر تجارت جناب جام کمال خان نے کیا ، اس پر وقار تقریب میں بورڈ اسٹیٹ لائف کے چیئر مین سلیمان ایسی مہدی، اسٹیٹ لائف کے سی ای او شعیب جاوید حسین، اسٹیٹ لائف کے سینئر ممبران ہیئر انتظامیہ سمیت اعلیٰ سرکاری عہدیداران، کار پوریت پاررز اور انڈسٹری لیڈرز نے شرکت کی۔

اس سمٹ نے پاکستان کے انشورنس سیکٹر میں ایک محرک قوت کے طور پر اور خاص طور پر ملک بھر میں چلنے والے سماجی صحت کےپروگراموں کی انتظام کے حوالے سے اسٹیٹ لائف کے دور رس تعاون کو اجاگر کیا۔

کیپٹل مارکیٹوں پر اسٹیٹ لائف کا اثر اس بات کا ثبوت ہے کہ اسٹیٹ لائف نے پاکستان کے معاشی استحکام اور ترقی پر بہترین اثرات مرتب کیے ہیں ۔

اپنے خطاب میں وزیر تجارت، جام کمال خان نے اظہار خیال کیا ، انشورنس اور صحت کے شعبوں میں اسٹیٹ لائف کی مسلسل جدت طرازی اور قیادت ملک کی فلاح و بہبود اور ہماری مارکیٹوں کی ترقی کیلئے اہم ہے۔ اس ڈیجیٹل سروس کا آغاز تمام پاکستانیوں کیلئےانشورنس خدمات میں رسائی ، شفافیت اور کار کردگی کو بڑھانے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا ۔

اسٹیٹ لائف کے سی ای او شعیب جاوید حسین کا کہنا تھا، ہماری ڈیجیٹل سروسز ہماری وہ تکنیکی ترقی ہیں جو ہمیں شفافیت، کار کردگی

اور سیکیورٹی کے اعلیٰ ترین معیار فراہم کرنے کے قابل بناتی ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ہماری خدمات صارفین، شراکت داروں

اور اسٹیک ہولڈرز کے لیے قابل رسائی اور فائدہ مند ہوں – SLIC سمٹ 2024 اسٹیٹ لائف کی پیش رفت ، اختراع اور قومی ترقی کیلئے دیرینہ عزم کا ثبوت ہے.

ہماری بنیادی خدمات کے ساتھ ڈیجیٹل سلوشنز کو مربوط کر کے، اسٹیٹ لائف پاکستان کے انشورنس اور مالیاتی شعبوں میں ایک اہم ستون کے طور پر اپنی پوزیشن کو استحکام بخشتی ہے اور ملک کو ایک روشن اور زیادہ خوشحال مستقبل کی طرف گامزن کر رہی ہے۔”

اس سمٹ نے SLIC کے بہتر ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے آغاز پر روشنی ڈالی، جو سٹیٹ لائف کے پالیسی ہولڈرز کے لیے سہولت اور تحفظ کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ جس میں ایک نئی اور بہتر ویب سائٹ کی نقاب کشائی اور تین جدید موبائل ایپلی کیشنز کا تعارف شامل ہے:

MYSLIC موبائل اپلیکیشن پالیسی ہولڈرز کے لیے ڈیزائن کی گئی ایپ جو انشورنس سروسز اور ریئل ٹائم پالیسی مینجمنٹ تک بغیر کسی رکاوٹ کے رسائی فراہم کرتی ہے۔

State Life Health Plus کارپوریٹ ہیلتھ کلائنٹس کے لیے بنائی گئی یہ ایپ کمر کی مؤثر ادائیگیوں اور صحت کی ضروری خدمات تک بالا رکاوٹ رسائی کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

SLIC Agent Pro کلائنٹس کو بہتر طریقے سے منظم کرنے اور آپریشنل کار کردگی کو بہتر بنانے کیلئے اسٹیٹ لائف کی سیلز فورس کوبا اختیار بنانے والے ایک جامع نول کا کام انجام دیتی ہے۔

یہ ڈیجیٹل تخلیقات کا نغذ سے آزاد انشورنس کے سفر کی راہ ہموار کرنے کی طرف ایک قدم آگے ہیں، جو صارفین کو بے مثال آسمانی اور کارکردگی کے ساتھ پالیسیوں کا انتظام کرنے، پریمیٹم کوٹریک کرنے اور پالیسی کی تکمیل کی نگرانی کرنے کے قابل بناتی ہیں۔

ایس ایل آئی سی کا یجیٹل انفراسٹرکچر ریل ٹائم الرلس، مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈیٹا کے تجزیے، اور پاکستان کے تمام خطوں میں موٹر ڈیٹا مینجمنٹ،

فاصلوں کو کم کرنے اور خدمات تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کو سپورٹ کرتا ہے۔

سمت پاکستان کے قومی سماجی صحت کے پروگراموں میں اسٹیٹ لائف کی شمولیت پر مرکوز تھی، جس نے لاکھوں پاکستانیوں کے لیے صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کو بہتر بنایا ہے۔

سوشل ہیلتھ پروگرام پینل میں صنعت کے رہنما اور صحت کی دیکھ بھال کے ماہرین شامل تھے، جن میں وفاقی صحت سہولت پروگرام کے سی ای او محمد ارشد، پنجاب ہیلتہ امید منجمنٹ کمپنی کے سی ای او ڈاکٹر علی رزاق صحت کارڈپلس پروگرام کے پی کے سی ای او ڈاکٹر ریاض تنولی اور بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے سی ای اوڈاکٹر اسد کا کر قابل ذکر ہیں۔

پینل میں شامل عمائدین نے عام پاکستانیوں کی زندگیوں پر اسٹیٹ لائف کے گہرے اثرات پر زور دیتے ہوئے ان کی صحت کیلئے کیے گئے اقدامات کے انتظام میں اسٹیٹ لائف کے اہم کردار پر اظہار خیال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہیلتھ انشورنس تک رسائی کا انتظام اور سہولت فراہم کر کے، اسٹیٹ لائف ملک بھر میں غیر محفوظ کمیونٹیز کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے عزم کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس سمٹ میں پاکستان کے سرمائے اور مالیاتی منڈیوں کے بارے میں بھی فکر انگیز گفتگو کی گئی۔

کیپٹل مارکیٹس پینل نے انڈ سٹری کی چند وا اثر شخصیات کو بھی بھی مدعو کیا ، جن میں اے کے ڈی سیکیورٹیز کے سی ای او فرید عالم پیشل بینک آف پاکستان (NBP) کے صدر رحمت علی حسنی، پاکستان اسٹاک ایکھینچ کے سی ای او فرخ خان اور اسٹیٹ لائف کے ہیڈ آف انویسٹمنٹ شاہنواز نادر شاہ شامل تھے۔

پینل نے پاکستان کے مالیاتی منظر نامے کے فروغ ، استحکام اور پائیداری کو فروغ دینے میں اسٹیٹ لائف جیسے اداروں کے اہم کردار ہے روشنی ڈالی۔

بحث کے دوران کیپٹل مارکیٹوں میں اسٹر ٹیک سرمایہ کاری کے ذریعے معاشی استحکام میں اسٹیٹ لائف کے خاطر خواہ تعاون کو اجاگر کیا۔

یہ بھی پڑھیں